تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 27

وَ لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یَوۡمَئِذٍ یَّخۡسَرُ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔ En
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑ جائیں گے
En
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل بڑے نقصان میں پڑیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی بادشاہی کی وسعت اور تمام اوقات میں تصرف اور تدبیر میں اپنے تفرد کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، نیز خبر دیتا ہے: ﴿وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ جس روز قیامت برپا ہوگی۔ اور تمام مخلوق قیامت کے میدان میں جمع ہوگی تو باطل پرستوں کو، جنھوں نے حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کو اختیار کیا، خسارہ حاصل ہو گا۔ ان کے اعمال ضائع ہوں گے، کیونکہ وہ باطل سے تعلق رکھتے ہیں۔ قیامت کے دن جب تمام حقائق عیاں ہوں گے اس دن ان کے اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے۔ان کا ثواب ختم ہوجائے گا اور انھیں دردناک عذاب ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن سعة ملكِهِ وانفرادِهِ بالتصرُّف والتدبير في جميع الأوقات، وأنَّه {يوم تقومُ الساعةُ}؛ ويَجمع الخلائق لموقف القيامة؛ يحصُلُ الخسار على المبطلين، الذين أتوا بالباطل ليدحِضوا به الحقَّ، وكانت أعمالهم باطلةً لأنَّها متعلِّقة بالباطل، فبطلت في يوم القيامة، اليوم الذي تستبين فيه الحقائق واضمحلَّت عنهم، وفاتَهم الثوابُ، وحصلوا على أليم العقاب.