تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 56

لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَۃَ الۡاُوۡلٰی ۚ وَ وَقٰہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۵۶﴾
وہ اس میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، مگر وہ موت جو پہلی تھی اور وہ انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچائے گا۔ En
(اور) پہلی دفعہ کے مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا
En
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۰۰ اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {لا يذوقون فيها الموتَ إلاَّ الموتةَ الأولى}؛ أي: ليس فيها موتٌ بالكلِّية، ولو كان فيها موتٌ يُستثنى؛ لم يستثنِ الموتةَ الأولى التي هي الموتة في الدنيا، فتمَّ لهم كلُّ محبوب مطلوب، {ووقاهم عذابَ الجحيم}.