(آیت 56) ➊ { لَايَذُوْقُوْنَفِيْهَاالْمَوْتَاِلَّاالْمَوْتَةَالْاُوْلٰى:} ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُؤْتٰیبِالْمَوْتِكَهَيْئَةِكَبْشٍأَمْلَحَفَيُنَادِيْمُنَادٍيَاأَهْلَالْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنََوَيَنْظُرُوْنَفَيَقُوْلُهَلْتَعْرِفُوْنَهٰذَا؟فَيَقُوْلُوْنَنَعَمْ،هٰذَاالْمَوْتُوَكُلُّهُمْقَدْرَاٰهُ،ثُمَّيُنَادِيْيَاأَهْلَالنَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَوَيَنْظُرُوْنَفَيَقُوْلُهَلْتَعْرِفُوْنَهٰذَا؟فَيَقُوْلُوْنَنَعَمْ،هٰذَاالْمَوْتُوَكُلُّهُمْقَدْرَاٰهُ،فَيُذْبَحُثُمَّيَقُوْلُيَاأَهْلَالْجَنَّةِ! خُلُوْدٌفَلَامَوْتَوَيَاأَهْلَالنَّارِ! خُلُوْدٌفَلاَمَوْتَ،ثُمَّقَرَأَ: «وَاَنْذِرْهُمْيَوْمَالْحَسْرَةِاِذْقُضِيَالْاَمْرُوَهُمْفِيْغَفْلَةٍ»وَهٰؤُلَاءفِيْغَفْلَةٍأَهْلُالدُّنْيَا«وَهُمْلَايُؤْمِنُوْنَ» ][بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل: «و أنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰]”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَاَنْذِرْهُمْيَوْمَالْحَسْرَةِاِذْقُضِيَالْاَمْرُوَهُمْفِيْغَفْلَةٍ» [مریم: ۳۹]”اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں۔“ یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۳۹)۔ ➋ { وَوَقٰىهُمْعَذَابَالْجَحِيْمِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہو گیا اس کا جہنم سے بچنا تو خود بخود ظاہر ہے، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ انھیں بھڑکتی آگ سے بچا لے گا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ جنت کی قدر پوری طرح اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کے پیشِ نظر یہ بات بھی ہو کہ اگر میں جہنم میں ہوتا تو میرا کیا حال ہوتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
56۔ 1 یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا جیسے حدیث میں آتا ہے ' کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ اور جنت کے درمیاں ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا اے جنتیو! تمہارے لئے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لئے موت نہیں۔ اور اے جہنمیوں! تمہارے لئے جہنم کا عذاب دائمی ہے موت نہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ وہاں وہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ بس پہلی موت جو دنیا میں [37] آچکی (سو آچکی) اور (اللہ) انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا
[37] اخروی زندگی میں موت نہیں :۔
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”ایک پکارنے والا جنت کے لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا: آئندہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے، تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے، اور تم ہمیشہ امن اور چین میں رہو گے کبھی کوئی رنج نہ ہو گا“ [مسلم۔ کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھاو اھلھا]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔