تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 55

یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
وہ اس میں ہر پھل بے خوف ہو کر منگوا رہے ہوں گے۔ En
وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)
En
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَدْعُوْنَ فِیْهَا وہ اس میں منگوائیں گے۔ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُ٘لِّ فَاكِهَةٍ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِیْنَ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يَدْعون فيها}: أي: الجنة {بكلِّ فاكهةٍ}: مما له اسمٌ في الدُّنيا ومما لا يوجدُ له اسمٌ ولا نظير في الدنيا؛ فمهما طلبوه من أنواع الفاكهة وأجناسها؛ أحضر لهم في الحال من غير تعبٍ ولا كلفةٍ، آمنين من انقطاع ذلك، وآمنين من مضرَّته، وآمنين من كلِّ مكدِّر، وآمنين من الخروج منها والموت.