تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَضْلًامِّنْرَّبِّكَ ﴾”یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔“ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَهُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ﴾”یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فضلاً من ربِّك}؛ أي: حصول النعيم واندفاع العذاب عنهم من فضل الله عليهم وكرمِهِ؛ فإنَّه تعالى هو الذي وفَّقهم للأعمال الصالحة، التي بها نالوا خير الآخرة وأعطاهم أيضاً ما لمْ تبلُغْه أعمالُهم. {ذلك هو الفوزُ العظيمُ}: وأيُّ فوزٍ أعظمُ من نيل رضوان الله وجنَّته والسلامة من عذابه وسخطِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔