تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 21

وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾
اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔ En
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ
En
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں:
۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔
۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔
۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰ علیہ السلام کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن لم تؤمنوا لي فاْعَتِزلوِن}؛ أي: لكم ثلاث مراتب: الإيماُن بي، وهو مقصودي منكم. فإنْ لم تَحْصُل منكم هذه المرتبة؛ فاعتزلون لا عليَّ ولا لي؛ فاكفوني شرَّكم. فلم تحُصل منهم المرتبة الأولى ولا الثانية، بل لم يزالوا متمرِّدين عاتين على الله محاربين لنبيِّه موسى عليه السلام غير ممكِّنين له من قومه بني إسرائيل.