تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 22

فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾
آخر اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔ En
تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں
En
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ (القصص: 28؍24) اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فدعا ربَّه أنَّ هؤلاء قومٌ مجرمونَ}؛ أي: قد أجرموا جرماً يوجب تعجيل العقوبةِ، فأخبر عليه السلام بحالهم، وهذا دعاء بالحال التي هي أبلغ من المقال؛ كما قال عن نفسه عليه السلام: {ربِّ إنِّي لما أنزلتَ إليَّ من خيرٍ فقيرٌ}.