(آیت 21) {وَاِنْلَّمْتُؤْمِنُوْالِيْفَاعْتَزِلُوْنِ:} یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ اور اگر تم میری بات پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ [16] سے الگ ہو جاؤ
[16] یعنی اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور مجھے ایذا نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تم کبھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ۔ مگر میری راہ نہ روکو اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے دو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِنْلَّمْتُؤْمِنُوْالِیْفَاعْتَزِلُوْنِ ﴾”اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔“ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں:
۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔
۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔
۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰ علیہ السلام کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن لم تؤمنوا لي فاْعَتِزلوِن}؛ أي: لكم ثلاث مراتب: الإيماُن بي، وهو مقصودي منكم. فإنْ لم تَحْصُل منكم هذه المرتبة؛ فاعتزلون لا عليَّ ولا لي؛ فاكفوني شرَّكم. فلم تحُصل منهم المرتبة الأولى ولا الثانية، بل لم يزالوا متمرِّدين عاتين على الله محاربين لنبيِّه موسى عليه السلام غير ممكِّنين له من قومه بني إسرائيل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔