تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 20

وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰﴾
اور بے شک میں اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔ En
اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
En
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فكذَّبوه وهمُّوا بقتله، فلجأ إلى الله من شرِّهم، فقال: {وإنِّي عذتُ بربِّي وربِّكم أن تَرْجُمونِ}؛ أي: تقتلوني أشرَّ القِتلاتِ بالرجم بالحجارة.