تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّاللّٰهَهُوَرَبِّیْوَرَبُّكُمْفَاعْبُدُوْهُ١ؕهٰؔذَاصِرَاطٌمُّسْتَقِیْمٌ﴾”یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔“اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ”وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا“ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ الله هو ربِّي وربُّكم فاعبُدوه هذا صراطٌ مستقيمٌ}: ففيه الإقرارُ بتوحيدِ الرُّبوبيَّة بأنَّ الله هو المربِّي جميع خلقه بأنواع النِّعم الظاهرة والباطنة، والإقرارُ بتوحيد العبوديَّة بالأمر بعبادة الله وحدَه لا شريك له، وإخبار عيسى عليه السلام أنَّه عبدٌ من عباد الله، ليس كما قال النصارى فيه: إنَّه ابنُ الله أو ثالثُ ثلاثة، والإخبارُ بأنَّ هذا المذكور صراطٌ مستقيمٌ موصلٌ إلى الله وإلى جنَّته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔