اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بے شک میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
En
اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَمَّاجَآءَعِیْسٰؔىبِالْبَیِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدْجِئْتُكُمْبِالْحِكْمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَیِّنَلَكُمْبَعْضَالَّذِیْتَخْتَلِفُوْنَفِیْهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰ علیہ السلام شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔
﴿فَاتَّقُوااللّٰهَوَاَطِیْعُوْنِ ﴾”پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔“ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولمَّا جاء عيسى بالبيِّناتِ}: الدالَّة على صدق نبوَّته وصحَّة ما جاءهم به من إحياء الموتى وإبراء الأكمه والأبرص ونحو ذلك من الآيات، {قال}: لبني إسرائيل: {قد جئتُكم بالحكمةِ}: النبوَّة والعلم بما ينبغي على الوجه الذي ينبغي، {ولأبيِّنَ لكم بعضَ الذي تختلفون فيه}؛ أي: أبين لكم صوابَه وجوابَه، فيزول عنكم بذلك اللبس، فجاء عليه السلام مكمِّلاً ومتمِّماً لشريعة موسى عليه السلام ولأحكام التوراة، وأتى ببعض التسهيلاتِ الموجبة للانقياد له وقَبول ما جاءهم به. {فاتَّقوا الله وأطيعونِ}؛ أي: اعبدوا الله وحدَه لا شريك له، وامتثلوا أمره، واجتنبوا نهيَه، وآمنوا بي، وصدِّقوني، وأطيعون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔