(آیت 64) ➊ {اِنَّاللّٰهَهُوَرَبِّيْوَرَبُّكُمْ:} یہ ہے وہ حکمت جس کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے۔ {”رَبِّيْوَرَبُّكُمْ“} خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے اور ضمیر فصل {”هُوَ“} لانے سے تاکید مزید ہو گئی ہے کہ میرا رب اور تمھارا رب صرف اللہ ہے، کوئی فرشتہ یا پیغمبر یا کوئی اور رب نہیں۔ ➋ { فَاعْبُدُوْهُ:} فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی جب ”رب“ (پرورش کرنے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں خود اللہ ہوں یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوں، اس لیے تم میری عبادت کرو، بلکہ ان کی دعوت وہی تھی جو تمام انبیاء(علیھم السلام) کی تھی اور جس کی طرف محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھیں بلا رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ اللہ ہی میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ لہذا اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُلَاشَرِیْکَ» ہے }۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّاللّٰهَهُوَرَبِّیْوَرَبُّكُمْفَاعْبُدُوْهُ١ؕهٰؔذَاصِرَاطٌمُّسْتَقِیْمٌ﴾”یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔“اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ”وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا“ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ الله هو ربِّي وربُّكم فاعبُدوه هذا صراطٌ مستقيمٌ}: ففيه الإقرارُ بتوحيدِ الرُّبوبيَّة بأنَّ الله هو المربِّي جميع خلقه بأنواع النِّعم الظاهرة والباطنة، والإقرارُ بتوحيد العبوديَّة بالأمر بعبادة الله وحدَه لا شريك له، وإخبار عيسى عليه السلام أنَّه عبدٌ من عباد الله، ليس كما قال النصارى فيه: إنَّه ابنُ الله أو ثالثُ ثلاثة، والإخبارُ بأنَّ هذا المذكور صراطٌ مستقيمٌ موصلٌ إلى الله وإلى جنَّته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔