تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 65

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾
پھر کئی گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے بڑی ہلاکت ہے۔ En
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
En
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنْۢ بَیْنِهِمْ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما جاءهم عيسى عليه السلام بهذا، {اختلف الأحزابُ}: المتحزِّبون على التكذيب، {من بينِهِم}: كلٌّ قال بعيسى عليه السلام مقالةً باطلةً وردَّ ما جاء به؛ إلاَّ من هدى الله من المؤمنين، الذين شهدوا له بالرسالة، وصدَّقوا بكل ما جاء به، وقالوا: إنَّه عبدُ الله ورسوله. {فويلٌ للذين ظلموا [من عذاب يوم أليم]}؛ أي: ما أشدَّ حزن الظالمين! وما أعظم خسارَهم في ذلك اليوم!