تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
En
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا: ﴿فَ٘مَنْ عَفَا وَاَصْلَ٘حَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔
3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله في هذه الآية مراتبَ العقوباتِ، وأنَّها على ثلاث مراتب: عدلٌ، وفضلٌ، وظلمٌ. فمرتبةُ العدل: جزاءُ السيئةِ بسيئةٍ مثِلها؛ لا زيادة ولا نقص؛ فالنفسُ بالنفس، وكلُّ جارحة بالجارحة المماثلة لها، والمال يُضْمَنُ بمثله.

ومرتبةُ الفضل: العفو والإصلاحُ عن المسيء، ولهذا قال: {فمَنْ عفا وأصلَحَ فأجرُهُ على الله}؛ يجزيه أجراً عظيماً وثواباً كثيراً، وشَرَطَ الله في العفو الإصلاح فيه ليدلَّ ذلك على أنَّه إذا كان الجاني لا يَليقُ بالعفوِ عنه، وكانت المصلحةُ الشرعيةُ تقتضي عقوبتَه؛ فإنَّه في هذه الحال لا يكون مأموراً به، وفي جعل أجرِ العافي على الله مما يهيجُ على العفوِ وأنْ يعامِلَ العبدُ الخَلْقَ بما يحبُّ أن يعامِلَه الله به؛ فكما يحبُّ أن يعفوَ الله عنه؛ فليعفُ عنهم، وكما يحبُّ أن يسامِحَه الله؛ فليسامِحْهم؛ فإنَّ الجزاء من جنس العمل.

وأما مرتبةُ الظُّلم؛ فقد ذَكَرَها بقوله: {إنَّه لا يحبُّ الظالمين}: الذين يجنون على غيرِهِم ابتداءً، أو يقابلون الجاني بأكثر من جنايتِهِ؛ فالزيادة ظلمٌ.