تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 41

وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾
اور بے شک جو شخص اپنے اوپر ظلم ہو نے کے بعد بدلہ لے لے تو یہ وہ لوگ ہیں جن پر کوئی راستہ نہیں۔ En
اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں
En
اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام کا) کوئی راستہ نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَ٘مَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْ٘بَغْیُ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَ٘مَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔
رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولَمَنِ انتصر} من {بعد ظلمِهِ}؛ أي: انتصر ممَّن ظَلَمه بعد وقوع الظُّلم عليه {فأولئك ما عليهم من سبيل}؛ أي: لا حرج عليهم في ذلك. ودلَّ قولُه: {والذين إذا أصابَهُمُ البَغْيُ}، وقوله: {ولَمَنِ انتصر بعد ظلمِهِ}: أنَّه لا بدَّ من إصابة البغي والظُّلم ووقوعه، وأما إرادةُ البغي على الغير وإرادةُ ظلمه من غيرِ أن يَقَعَ منه شيءٌ؛ فهذا لا يجازَى بمثله، وإنَّما يؤدَّب تأديباً يردعُه عن قول أو فعل صدر منه.