تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی واقع ہوتی ہے وہ بدلہ لیتے ہیں۔ En
اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں
En
اور جب ان پر ﻇلم (و زیادتی) ہو تو وه صرف بدلہ لے لیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْ٘بَغْیُ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمْ یَنْ٘تَصِرُوْنَ وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين إذا أصابَهُمُ البغيُ}؛ أي: وصل إليهم من أعدائهم {هم ينتصرونَ}: لقوَّتهم وعزَّتهم، ولم يكونوا أذلاَّء عاجزين عن الانتصارِ؛ فوصَفَهم بالإيمان، والتوكُّل على الله، واجتنابِ الكبائر والفواحش الذي تُكَفَّرُ به الصغائرُ، والانقياد التامِّ، والاستجابة لربِّهم، وإقامة الصلاة، والإنفاق في وجوه الإحسان، والمشاورة في أمورهم، والقوَّة، والانتصار على أعدائِهِم؛ فهذه خصالُ الكمال قد جَمَعوها، ويلزم من قيامِها فيهم فِعْلُ ما هو دونَها وانتفاءُ ضدِّها.