ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
اور کسی برائی کا بدلہ اس کی مثل ایک برائی ہے، پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک وہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
En
اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، اور جو معاف کر دے اور اصلاح کرلے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ { وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا:} سرکشی کرنے والوں سے انتقام کا ذکر مدح کے انداز میں کرنے پر خطرہ تھا کہ انتقام میں حد سے تجاوز نہ ہو جائے، اس لیے اس آیت میں کئی طرح سے زیادتی سے باز رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ سب سے پہلے تو یہ کہہ کر کہ { جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ } (برائی کا بدلا برائی ہے) حالانکہ بدلا تو برائی نہیں، مگر دونوں کی صورت ایک ہونے کی وجہ سے بدلے پر بھی { سَيِّئَةٌ } کا لفظ بولا۔ پھر یہ پابندی لگائی کہ انتقام زیادتی کے عین برابر ہو، اس سے زیادہ نہ ہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۹۴] پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ» ‏‏‏‏ [النحل: ۱۲۶] اور اگر تم بدلا لو تو اتنا ہی بدلا لو جتنی تمھیں تکلیف دی گئی ہے۔
➋ { وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا } سے جو احکام حاصل ہوتے ہیں ان میں سے چند کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۲۶) کی تفسیر۔
➌ { فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ:} ظاہر ہے انتقام لیتے ہوئے اس زیادتی سے ذرّہ برابر اضافہ نہ ہونے دینا جو کی گئی ہے محال نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے، اس لیے آخر میں پھر عفو و اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کا اجر اپنے ذمے لیا۔ { فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ } (تو اس کا اجر اللہ پر ہے) اس جملے میں اجر کی جو عظمت بیان ہوئی ہے وہ کسی بھی تفصیل سے اس طرح بیان نہیں ہو سکتی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ] [مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو و التواضع:۲۵۸۸] صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کر دینے کی وجہ سے بندے کی عزت ہی میں اضافہ کرتا ہے اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر نیچا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اونچا کر دیتا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہاں فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا بہت عمدہ کلام نقل فرمایا ہے، جس میں انھوں نے دو آیات کے حوالے سے اور طبعی وعقلی حوالے سے عفو کی فضیلت بیان کی ہے۔ انھوں نے فرمایا: جب کوئی شخص تمھارے پاس کسی شخص کی شکایت لے کر آئے تو اسے کہو، میرے بھائی! اسے معاف کر دو، کیونکہ عفو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۳۷] اور یہ (بات) کہ تم معاف کر دو تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اگر وہ کہے میرا دل معاف کرنے کو برداشت نہیں کرتا، میں تو انتقام لوں گا، جیسے مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اسے کہو، اگر تم اچھے طریقے سے انتقام لے سکتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ عفو کی طرف پلٹ آؤ، یہ بہت وسعت والا دروازہ ہے، کیونکہ جو معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، فرمایا: «‏‏‏‏فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۴۰] پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اور معاف کر دینے والا رات سکون سے بستر پر سو جاتا ہے، جبکہ انتقام لینے والا مختلف معاملات کی وجہ سے پہلو بدلتا رہتا ہے۔ [ابن أبي حاتم: ۱۰/ ۳۲۸۰، ح: ۱۸۴۸۸، قال المحقق سندہ صحیح]
➍ { اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ:} سب سے پہلے تو ظالم وہ ہے جو ظلم کرنے میں پہل کرتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُوْمُ] [مسلم، البر و الصلۃ، باب النھي عن السباب: ۲۵۸۷] دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ بھی کہیں وہ پہل کرنے والے پر ہے، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ پھر مظلوم اگر انتقام میں حد سے بڑھ جائے تو ظالم شمار ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو گا۔
➎ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بدلے کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں، عدل، فضل اور ظلم۔ عدل کا مرتبہ{ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا } میں بیان ہوا ہے کہ بدلے میں نہ زیادتی ہو نہ کمی، جان کے بدلے جان، ہر عضو کے بدلے اس کے برابر عضو، اسی طرح مال پر زیادتی کا معاملہ ہے۔ فضل کا مرتبہ زیادتی کرنے والے سے عفو اور اس کی اصلاح ہے۔ { فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ } اس جملے میں عفو کی ترغیب ہے کہ جس طرح تم اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواہش مند اور امید وار ہو اسی طرح تم بھی عفو و درگزر سے کام لو، فرمایا: «وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ» ‏‏‏‏ [النور: ۲۲] اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے۔ اگر عفو سے مجرم کی اصلاح نہیں ہوتی بلکہ اس کی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے تو مصلحت عفو نہیں انتقام ہے۔ اور ظلم کا مرتبہ یہ ہے کہ اس پر جتنی زیادتی کی گئی تھی اس سے بڑھ کر زیادتی کرے۔ پہلے مظلوم تھا اب ظالم بن جائے گا اور اللہ کی محبت سے محروم ہو جائے گا۔ (سعدی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یہ (قصاص (بدلہ لینے) کی اجازت ہے۔ برائی کا بدلہ اگرچہ برائی نہیں ہے لیکن مشکلات کی وجہ سے اسے بھی برائی ہی کہا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کر دے [58] اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ ظالموں کو [59] قطعاً پسند نہیں کرتا
[58] یعنی اگر کوئی برائی اور زیادتی کا بدلہ لینا ہی چاہے تو اتنا ہی لے جتنی اس پر زیادتی ہوئی ہے۔ اور اگر اس کے معاف کر دینے سے آپس میں صلح ہو سکتی ہو یا بگڑے ہوئے حالات سنور سکتے ہوں اور حالات کے بہتر ہو جانے کی بنا پر معاف کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو گا۔
[59] یعنی اگر وہ بدلہ لینے میں زیادتی کرے گا تو وہ مظلوم ہونے کے بجائے خود ظالم بن جائے گا اور اللہ ظالموں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

برائی کا بدلہ لینا جائز ہے ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ برائی کا بدلہ لینا جائز ہے۔ جیسے فرمایا «فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» ‏‏‏‏ [2- البقرة: 194]‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [16- النحل: 126]‏‏‏‏ یعنی خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر اسے معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا۔ یہاں بھی فرمایا جو شخص معاف کر دے اور صلح و صفائی کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ حدیث میں ہے درگذر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔[صحیح مسلم:2588]‏‏‏‏
لیکن جو بدلے میں اصل جرم سے بڑھ جائے وہ اللہ کا دشمن ہے۔ پھر برائی کی ابتداء اسی کی طرف سے سمجھی جائے گی پھر فرماتا ہے جس پر ظلم ہو اسے بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں اس لفظ «انتَصَرَ» کی تفسیر کی طلب میں تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان رحمہ اللہ نے بروایت اپنی والدہ ام محمد کے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتی تھیں بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گئے اس وقت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہاں موجود تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا تو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارے سے بتایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت پر بھی خاموش نہ ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی کہ جواب دیں۔ اب جو جواب ہوا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا عاجز آ گئیں اور سیدھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہیں یوں یوں کہتی ہیں اور ایسا ایسا کرتی ہیں۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا قسم رب کعبہ کی! عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں محبت رکھتا ہوں یہ تو اسی وقت واپس چلی گئیں۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سارا واقعہ کہہ سنایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے باتیں کیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:30729:ضعیف]‏‏‏‏
یہ روایت ابن جریر میں اسی طرح ہے لیکن اس کے راوی اپنی روایتوں میں عموماً منکر حدیثیں لایا کرتے ہیں اور یہ روایت بھی منکر ہے نسائی اور ابن ماجہ میں اس طرح ہے کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصہ میں بھری ہوئی بلا اطلاع سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلی آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نسبت کچھ کہا پھر عائشہ سے لڑنے لگیں لیکن مائی صاحبہ نے خاموشی اختیار کی جب وہ بہت کہہ چکیں تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو اپنا بدلہ لے لے پھر جو صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دینے شروع کئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا تھوک خشک ہو گیا۔ کوئی جواب نہ دے سکیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے وہ صدمہ مٹ گیا۔[سنن ابن ماجہ:1981،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
حاصل یہ ہے کہ مظلوم ظالم کو جواب دے اور اپنا بدلہ لے لے۔ بزار میں ہے ظالم کے لیے جس نے بد دعا کی اس نے بدلہ لے لیا۔ [سنن ترمذي:3552،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
یہی حدیث ترمذی میں ہے لیکن اس کے ایک راوی میں کچھ کلام ہے پھر فرماتا ہے حرج و گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کریں اور زمین میں بلا وجہ شرو فساد کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا: ﴿فَ٘مَنْ عَفَا وَاَصْلَ٘حَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔
3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله في هذه الآية مراتبَ العقوباتِ، وأنَّها على ثلاث مراتب: عدلٌ، وفضلٌ، وظلمٌ. فمرتبةُ العدل: جزاءُ السيئةِ بسيئةٍ مثِلها؛ لا زيادة ولا نقص؛ فالنفسُ بالنفس، وكلُّ جارحة بالجارحة المماثلة لها، والمال يُضْمَنُ بمثله.

ومرتبةُ الفضل: العفو والإصلاحُ عن المسيء، ولهذا قال: {فمَنْ عفا وأصلَحَ فأجرُهُ على الله}؛ يجزيه أجراً عظيماً وثواباً كثيراً، وشَرَطَ الله في العفو الإصلاح فيه ليدلَّ ذلك على أنَّه إذا كان الجاني لا يَليقُ بالعفوِ عنه، وكانت المصلحةُ الشرعيةُ تقتضي عقوبتَه؛ فإنَّه في هذه الحال لا يكون مأموراً به، وفي جعل أجرِ العافي على الله مما يهيجُ على العفوِ وأنْ يعامِلَ العبدُ الخَلْقَ بما يحبُّ أن يعامِلَه الله به؛ فكما يحبُّ أن يعفوَ الله عنه؛ فليعفُ عنهم، وكما يحبُّ أن يسامِحَه الله؛ فليسامِحْهم؛ فإنَّ الجزاء من جنس العمل.

وأما مرتبةُ الظُّلم؛ فقد ذَكَرَها بقوله: {إنَّه لا يحبُّ الظالمين}: الذين يجنون على غيرِهِم ابتداءً، أو يقابلون الجاني بأكثر من جنايتِهِ؛ فالزيادة ظلمٌ.