عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میںاور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہو جائے کہ یہی حق ہے اور کیا تیرا رب کافی نہیں اس بات کے لیے کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
En
ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ حق یہی ہے، کیا آپ کے رب کا ہر چیز سے واقف و آگاه ہونا کافی نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگر تمھیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً: آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لیے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿وَفِیْۤاَنْفُسِهِمْ ﴾”اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔“ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز اہل تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤ ں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لیے دلائل ہیں۔ ﴿حَتّٰىیَتَبَیَّنَلَهُمْ ﴾”حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔“ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ﴿اَنَّهُالْحَقُّ ﴾”بلاشبہ وہ حق ہے۔“
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، جس سے حق واضح ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ ﴿اَوَلَمْیَكْفِبِرَبِّكَاَنَّهٗعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍشَهِیْدٌ ﴾”کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے۔“ یعنی کیا ان کے لیے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے سچا گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کے لیے شہادت قولی کو متضمن ہے، جو اس میں شک کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإنْ قلتُم أو شككتُم بصحَّته وحقيقتِهِ؛ فسيقيم الله لكم، ويريكم من آياتِهِ في الآفاق؛ كالآياتِ التي في السماء وفي الأرض وما يُحْدِثُه الله تعالى من الحوادثِ العظيمة الدالَّة للمستبصر على الحقِّ. {وفي أنفسِهِم}: مما اشتملتْ عليه أبدانُهم من بديع آياتِ الله وعجائبِ صنعتِهِ وباهر قدرتِهِ، وفي حلول العقوبات والمَثُلات في المكذِّبين ونصر المؤمنين، {حتى يتبيَّن لهم}: من تلك الآياتِ بياناً لا يقبل الشكَّ، {أنَّه الحقُّ}: وما اشتمل عليه حقٌّ، وقد فعل تعالى؛ فإنَّه أرى عباده من الآيات ما به تبيَّن [لهم] أنه الحقُّ، ولكن الله هو الموفِّق للإيمان مَنْ شاء، والخاذل لمن يشاء. {أو لم يكفِ بربِّك أنَّه على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}؛ أي: أولم يكفِهم ـ على أنَّ القرآن حقٌّ، ومن جاء به صادقٌ ـ شهادةُ الله تعالى؛ فإنَّه قد شهد له بالصدق، وهو أصدقُ الشاهدين، وأيَّده ونصره نصراً متضمِّناً لشهادته القوليَّة عند من شكَّ فيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔