تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دوسری تفسیر یہ کہ {” اَنَّهُ “} کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے، مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کے دلائل پر غور کریں گے، جو تمام آفاق یعنی زمین و آسمان میں پائے جاتے ہیں، مثلاً سورج چاند، نباتات و جمادات و حیوانات وغیرہ اور جو خود ان کی ذات میں پائے جاتے ہیں، مثلاً نطفے سے لے کر پیدائش تک، پھر بچپن سے لے کر موت تک، پھر ان کے وجود کی حیرت انگیز بناوٹ پر، جن کے عجائبات کے متعلق ہر روز نئے سے نئے انکشافات ہوتے رہیں گے، تو انھیں یقین ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے۔ پہلے مطلب کو ابن جریر طبری نے ترجیح دی ہے، جبکہ دوسرا مطلب بعض تابعین نے اختیار فرمایا ہے۔ دونوں مطلب بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں۔
➋ {اَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ …:} یعنی مسلمانوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی کہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ کفارِ قریش پر اور کل عالم پر کیسے ممکن ہے تو اسے کہو، کیا تمھارا رب یہ کام کرنے کے لیے اکیلا کافی نہیں؟ اس لیے کہ وہ اکیلا ہر چیز اور ہر کام کا نگران اور اس پر شاہد ہے، اسے کسی کی مدد یا مشورے کی کوئی حاجت نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[72] اس جملہ کے تین مطلب ہو سکتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب ہو گا کہ اگر یہ لوگ قرآن کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے تو نہ کریں۔ اس کی حقانیت پر کیا تمہارے پروردگار کی گواہی کافی نہیں جو ہر جگہ موجود اور ہر چیز کو بچشم خود دیکھ رہا ہے؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو اپنے کرتوتوں سے رک جانے کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا پروردگار ان کی ہر ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے؟ اور تیسرا مطلب یہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کافر آپ کو کن کن طریقوں سے ستا رہے ہیں پھر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطمینان کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خود گواہ ہے اور وہ انہیں ان کی کرتوتوں کی سزا دیئے بغیر چھوڑے گا نہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے ‘۔
مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہو گا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔
کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کر دیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الٰہی کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب و جبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔
جب وہ فرما رہا ہے کہ ’ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک؟ ‘ جیسے ارشاد ہے آیت «و لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ وَالْمَلٰىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ وَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:166] یعنی ’ لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لیے بے فکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے ‘۔
ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔“ آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ’ ہر چیز پر اس کا احاطہٰ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے ‘۔
الحمدللہ سورۃ فصلت [حم سجدہ] کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فإنْ قلتُم أو شككتُم بصحَّته وحقيقتِهِ؛ فسيقيم الله لكم، ويريكم من آياتِهِ في الآفاق؛ كالآياتِ التي في السماء وفي الأرض وما يُحْدِثُه الله تعالى من الحوادثِ العظيمة الدالَّة للمستبصر على الحقِّ. {وفي أنفسِهِم}: مما اشتملتْ عليه أبدانُهم من بديع آياتِ الله وعجائبِ صنعتِهِ وباهر قدرتِهِ، وفي حلول العقوبات والمَثُلات في المكذِّبين ونصر المؤمنين، {حتى يتبيَّن لهم}: من تلك الآياتِ بياناً لا يقبل الشكَّ، {أنَّه الحقُّ}: وما اشتمل عليه حقٌّ، وقد فعل تعالى؛ فإنَّه أرى عباده من الآيات ما به تبيَّن [لهم] أنه الحقُّ، ولكن الله هو الموفِّق للإيمان مَنْ شاء، والخاذل لمن يشاء. {أو لم يكفِ بربِّك أنَّه على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}؛ أي: أولم يكفِهم ـ على أنَّ القرآن حقٌّ، ومن جاء به صادقٌ ـ شهادةُ الله تعالى؛ فإنَّه قد شهد له بالصدق، وهو أصدقُ الشاهدين، وأيَّده ونصره نصراً متضمِّناً لشهادته القوليَّة عند من شكَّ فيها.