تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَلَاۤاِنَّهُمْفِیْمِرْیَةٍمِّنْلِّقَآءِرَبِّهِمْ ﴾”آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔“ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤاِنَّهٗبِكُ٘لِّشَیْءٍمُّؔحِیْطٌ ﴾ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ألا إنِّهم في مِرْيَةٍ من لقاءِ ربِّهم}؛ أي: في شكٍّ من البعث والقيامةِ، وليس عندَهم دارٌ سوى الدار الدُّنيا؛ فلذلك لم يعملوا للآخرة، ولم يلتفتوا لها. {ألا إنَّه بكلِّ شيءٍ محيطٌ}: علماً وقدرةً وعزةً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔