تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 54

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾
سنو! یقینا وہ لوگ اپنے رب سے ملنے کے بارے میں شک میں ہیں ۔سن لو! یقینا وہ ہر چیز کااحاطہ کرنے والا ہے۔ En
دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
En
یقین جانو! کہ یہ لوگ اپنے رب کے روبرو جانے سے شک میں ہیں، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ مُّؔحِیْطٌ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ألا إنِّهم في مِرْيَةٍ من لقاءِ ربِّهم}؛ أي: في شكٍّ من البعث والقيامةِ، وليس عندَهم دارٌ سوى الدار الدُّنيا؛ فلذلك لم يعملوا للآخرة، ولم يلتفتوا لها. {ألا إنَّه بكلِّ شيءٍ محيطٌ}: علماً وقدرةً وعزةً.