آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْ ﴾ قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَیْتُمْاِنْكَانَ ﴾”مجھے بتایئے اگر یہ ہو“ یعنی یہ قرآن ﴿مِنْعِنْدِاللّٰهِ ﴾ بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ ﴿ثُمَّكَفَرْتُمْبِهٖمَنْاَضَلُّمِمَّنْهُوَفِیْشِقَاقٍۭؔبَعِیْدٍ ﴾” پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہےجو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اورعناد میں، کیونکہ حق تم پر واضح ہو چکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا۔ تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل}: لهؤلاء المكذِّبين بالقرآن المسارعين إلى الكُفران: {أرأيتُم إن كانَ}: هذا القرآنُ {من عندِ الله}: من غير شكٍّ ولا ارتيابٍ، {ثم كفرتُم به مَنْ أضلُّ ممَّنْ هو في شقاقٍ بعيدٍ}؛ أي: معاندة لله ولرسوله؛ لأنَّه تبيَّن لكم الحقُّ والصوابُ، ثم عدلتُم عنه لا إلى حقٍّ، بل إلى باطل وجهل؛ فإذاً تكونون أضلَّ الناس وأظلَمَهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔