تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 68

ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾
وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتاہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہو جا ‘‘تو وہ ہو جاتا ہے۔ En
وہی تو ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ جاتا ہے
En
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وه کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وه ہو جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنْقَ٘صُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ (فاطر: 35؍11) کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
﴿فَاِذَا قَ٘ضٰۤى اَمْرًا پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُ٘نْ فَیَكُوْنُ تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الذي يُحيي ويميتُ}؛ أي: هو المنفرد بالإحياء والإماتة؛ فلا تموت نفسٌ بسبب أو بغير سبب إلاَّ بإذنِهِ {وما يُعَمَّرُ من مُعَمَّرٍ ولا يَنْقُصُ من عمرِهِ إلاَّ في كتاب إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}. {فإذا قضى أمراً}: جليلاً أو حقيراً {فإنَّما يقول له كن فيكونُ}: لا ردَّ في ذلك ولا مثنويَّة ولا تمنُّع.