تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 69

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کہاں پھیرے جا رہے ہیں۔ En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟
En
کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، وه کہاں پھیر دیے جاتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ألم تر إلى الذين يجادِلون في آيات الله}: الواضحة البيِّنة متعجباً من حالهم الشنيعة، {أنَّى يُصْرَفونَ}؛ أي: كيف ينعدِلون عنها؟! وإلى أيِّ شيء يذهبونَ بعد البيانِ التامِّ؟! هل يجدون آياتٍ بيِّنات تعارض آيات الله؟! لا والله. أم يجدون شُبهاً توافقُ أهواءهم ويصولون بها لأجل باطِلِهم؟!