ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 68

ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾
وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتاہے، پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہو جا ‘‘تو وہ ہو جاتا ہے۔ En
وہی تو ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ جاتا ہے
En
وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وه کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا پس وه ہو جاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68) ➊ { هُوَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ:} توحید اور آخرت کو ثابت کرنے کے لیے اپنی نعمتوں اور قدرتوں کے تذکرے سے بھرپور آیات کے اس سلسلے کو اس آیت پر ختم فرمایا کہ وہی ہے جو (جسے چاہتا ہے) زندگی عطا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) موت دیتا ہے۔ موت و حیات مکمل طور پر اس کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں۔
➋ {فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ:} یعنی اسے پہلی مرتبہ یا دوبارہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں، یا کسی کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے اورقیامت برپا کرنے میں کیا مشکل ہو سکتی ہے؟ وہ تو جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو بس{ كُنْ } (ہو جا) کہتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے۔ وہ اسباب کا محتاج نہیں، بلکہ اسباب اس کے حکم سے وجود میں آتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 زندہ کرنا اور مارنا اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ ایک بےجان نطفے کو مختلف اطوار سے گزار کر ایک زندہ انسان کے روپ میں ڈھال دیتا ہے اور پھر ایک وقت مقررہ کے بعد اس زندہ انسان کو مار کر موت کی وادیوں میں سلا دیتا ہے۔ 68۔ 2 اس کی قدرت کا یہ حال ہے کہ اس کے لفظ کن (ہو جا) سے وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے جس کا وہ ارادہ کرے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ وہی تو ہے جو تمہیں زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اسے اتنا ہی کہتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتا [91] ہے۔
[91] ﴿كُنْ فَيَكُوْنُ کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ یٰسین کی آیت نمبر 84 کا حاشیہ نمبر 74

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنْقَ٘صُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ (فاطر: 35؍11) کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
﴿فَاِذَا قَ٘ضٰۤى اَمْرًا پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُ٘نْ فَیَكُوْنُ تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الذي يُحيي ويميتُ}؛ أي: هو المنفرد بالإحياء والإماتة؛ فلا تموت نفسٌ بسبب أو بغير سبب إلاَّ بإذنِهِ {وما يُعَمَّرُ من مُعَمَّرٍ ولا يَنْقُصُ من عمرِهِ إلاَّ في كتاب إنَّ ذلك على الله يسيرٌ}. {فإذا قضى أمراً}: جليلاً أو حقيراً {فإنَّما يقول له كن فيكونُ}: لا ردَّ في ذلك ولا مثنويَّة ولا تمنُّع.