وہی ہے جس نے تمھیں کچھ مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر ایک جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تمھیں ایک بچہ بنا کر نکالتا ہے، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اورتم میںسے بعض وہ ہے جو اس سے پہلے قبض کر لیا جاتا ہے اور تاکہ تم ایک مقرر وقت کو پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو۔
En
وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو
وه وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ، تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (وه تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا: ﴿هُوَالَّذِیْخَلَقَكُمْمِّنْتُرَابٍ ﴾”وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا“یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّمِنْنُّطْفَةٍ ﴾” پھر نطفہ سے“ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔
﴿ثُمَّیُخْرِجُؔكُمْطِفْلًا ﴾” پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔“ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّلِتَكُوْنُوْاشُیُوْخًا١ۚوَمِنْكُمْمَّنْیُّتَوَفّٰىمِنْقَبْلُ ﴾” پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔“ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبْلُغُوْۤا ﴾”اور تاکہ تم پہنچ جاؤ۔“ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔
﴿وَّلَعَلَّكُمْتَعْقِلُوْنَ ﴾”اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔“ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قرَّر هذا التوحيدَ بأنه الخالق لكم والمطوِّر لخلقتِكم؛ فكما خلقكم وحدَه؛ فاعبدوه وحدَه، فقال: {هو الذي خَلَقَكم من ترابٍ}: وذلك بخلقة أصلكم وأبيكم آدم عليه السلام، {ثم من نطفةٍ}: وهذا ابتداءُ خلق سائر النوع الإنسانيِّ ما دام في بطن أمِّه، فنبَّه بالابتداء على بقيَّة الأطوار من العلقة فالمضغة فالعظام فنفخ الروح، {ثم يخرِجُكم طفلاً ثم}: هكذا تنتقلون في الخلقة الإلهية حتى {تبلغوا أشدَّكم}: من قوة العقل والبدن وجميع قواه الظاهرة والباطنة، {ثم لِتكونوا شيوخاً ومنكم مَنْ يُتَوَفَّى من قبلُ}: بلوغ الأشدِّ، {ولِتَبْلُغوا}: بهذه الأطوار المقدَّرة [إلى] أجَلٍ {مسمًّى}: تنتهي عنده أعمارُكم. {ولعلَّكم تعقلونَ}: أحوالكم فتعلمونَ أنَّ المطورَ لكم في هذه الأطوار كامل الاقتدار، وأنَّه الذي لا تنبغي العبادةُ إلاَّ له، وأنَّكم ناقصون من كلِّ وجه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔