تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 59

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۹﴾
بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔ En
قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے
En
قیامت بالیقین اور بےشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں ﻻتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الساعة لآتيةٌ لا ريبَ فيها}: قد أخبرت بها الرسل الذين هم أصدق الخلق، ونطقت بها الكتب السماويَّة التي جميع أخبارها أعلى مراتب الصدق، وقامت عليها الشواهدُ المرئيَّة والآيات الأفقيَّة. {ولكنَّ أكثر الناس لا يؤمنونَ} مع هذه الأمور التي توجب كمال التصديق والإذعان.