(آیت 59) ➊ { اِنَّالسَّاعَةَلَاٰتِيَةٌلَّارَيْبَفِيْهَا:} وہ بات جو اس سے پہلی دو آیات میں دلیلوں کے ساتھ بیان فرمائی، اب نہایت صریح الفاظ میں {”اِنَّ“} اور ”لام“ کی تاکید کے ساتھ بیان فرمائی۔ ان دونوں لفظوں کا اکٹھا آنا اہل عرب کے ہاں تاکید کی قوت میں قسم کے برابر ہے۔ پچھلی آیات میں قیامت کے حق ہونے کی دلیلیں ذکر فرمائیں، اب کائنات کے خالق و مالک نے قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسم کھا کر یہ بات کہنا بجائے خود دلیل ہے اور سب سے بڑی دلیل ہے۔ ➋ {وَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَايُؤْمِنُوْنَ:} اور لیکن اکثر لوگ اتنی واضح اور سچی بات ماننے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ اسے ماننے کے بعد انھیں اپنی سرکش خواہشوں اور لذتوں کو ترک کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ قیامہ (۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ بلا شبہ قیامت آنے والی ہے [77] جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
[77] جہاں عقل کی حد ختم ہو جائے وہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے اور وحی کی بنیاد یقینی علم پر ہے :۔
اس آیت میں بڑے زور دار الفاظ میں انسان کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرما رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ آکے رہے گی کسی کے روکنے یا نہ چاہنے سے رک نہیں سکتی۔ عقلی دلائل کا ماحصل تو یہی ہو سکتا تھا کہ فلاں چیز کا ہونا ممکن ہے یا ہونا چاہئے لیکن عقل یہ حکم نہیں لگا سکتی کہ فلاں چیز یقیناً واقع ہو کے رہے گی۔ یہ بس وحی الٰہی کا کام ہے جو کائنات کے خالق اور اس کے آغاز اور انجام سے پوری طرح واقف ہے۔ ضمناً اس سے یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ دین کی بنیاد محض قیاس و استدلال پر نہیں رکھی گئی بلکہ اس کی بنیاد وحی الٰہی یا یقینی علم پر رکھی گئی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّالسَّاعَةَلَاٰتِیَةٌلَّارَیْبَفِیْهَا ﴾”بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔“ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَایُؤْمِنُوْنَ ﴾”لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔“ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ الساعة لآتيةٌ لا ريبَ فيها}: قد أخبرت بها الرسل الذين هم أصدق الخلق، ونطقت بها الكتب السماويَّة التي جميع أخبارها أعلى مراتب الصدق، وقامت عليها الشواهدُ المرئيَّة والآيات الأفقيَّة. {ولكنَّ أكثر الناس لا يؤمنونَ} مع هذه الأمور التي توجب كمال التصديق والإذعان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔