اور نہ اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتا ہے اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوںنے نیک اعمال کیے اور نہ وہ جو برائی کرنے والا ہے، بہت کم تم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
En
اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَایَسْتَوِیالْاَعْمٰىوَالْبَصِیْرُ١ۙ۬وَالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِوَلَاالْ٘مُسِیْٓءُ ﴾”اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔“ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِیْلًامَّاتَتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو“ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {وما يستوي الأعمى والبصيرُ والذين آمنوا وعَمِلوا الصالحات ولا المسيءُ}؛ أي: كما لا يستوي الأعمى والبصير؛ كذلك لا يستوي مَن آمنَ بالله وعمل الصالحات ومَن كان مستكبراً على عبادة ربِّه، مقدِماً على معاصيه، ساعياً في مساخطه، {قليلاً ما تتذكَّرونَ}؛ أي: تذكُّركم قليلٌ، وإلاَّ؛ فلو تذكَّرتم مراتبَ الأمور ومنازل الخير والشرِّ والفرق بين الأبرار والفجار، وكانت لكم هِمَّةٌ عليَّةٌ؛ لآثرتم النافع على الضارِّ، والهدى على الضلال، والسعادة الدائمة على الدنيا الفانية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔