تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 60

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾
اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ En
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے
En
اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انھیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں... یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ… اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے جو تکبر کی بنا پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے۔ یعنی ان کے تکبر کی پاداش میں، ان کے لیے عذاب اور رسوائی کو اکٹھا کر دیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا من لطفه بعباده ونعمته العظيمة؛ حيث دعاهم إلى ما فيه صلاح دينهم ودنياهم وأمرهم بدعائه دعاء العبادة ودعاء المسألة ووعدهم أن يستجيبَ لهم، وتوعَّد من استكبر عنها، فقال: {إنَّ الذين يستكْبِرونَ عن عبادتي سَيَدْخُلونَ جهنَّمَ داخِرين}؛ أي: ذليلين حقيرين، يجتمعُ عليهم العذابُ والإهانة جزاءً على استكبارهم.