جس دن تم پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے، تمھارے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
En
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿یَوْمَتُوَلُّوْنَمُدْبِرِیْنَ ﴾”جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے“ یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَالَكُمْمِّنَاللّٰهِمِنْعَاصِمٍ ﴾”تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔“ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿یَوْمَتُ٘بْلَىالسَّرَآىِٕرُۙ۰۰فَمَالَهٗمِنْقُوَّةٍوَّلَانَاصِرٍ﴾ (الطلاق: 86؍9، 10) ”جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔“﴿وَمَنْیُّضْلِلِاللّٰهُفَمَالَهٗمِنْهَادٍ ﴾”اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔“ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فخوَّفهم رضي الله عنه هذا اليوم المهول، وتوجَّع لهم إن أقاموا على شركِهِم بذلك، ولهذا قال: {يوم تولُّون مدبرينَ}؛ أي: قد ذهب بكم إلى النار. {ما لكم من الله من عاصم}: لا من أنفسكم قوَّة تدفعون بها عذابَ الله ولا ينصرُكم من دونِهِ من أحدٍ، {يوم تُبْلى السرائرُ. فما له من قوَّةٍ ولا ناصرٍ}. {ومن يُضْلِلِ الله فما له من هادٍ}: لأن الهدى بيد الله تعالى. فإذا منع عبدَه الهدى لعلمِهِ أنه غير لائق به لخبثه؛ فلا سبيل إلى هدايته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔