اور بلاشبہ یقینا اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلیلیں لے کر آیا تو تم اس کے بارے میں شک ہی میں رہے، جو وہ تمھارے پاس لے کر آیا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ کبھی کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ہر اس شخص کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والا ہو۔
En
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی ﻻئی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں اسی طرح اللہ گمراه کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے واﻻ شک و شبہ کرنے واﻻ ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَقَدْجَآءَكُمْیُوْسُفُ ﴾”اور یوسف علیہ السلام بھی تمھارے پاس آئے۔“ یعنی یوسف بن یعقوب علیہما السلام ﴿مِنْقَبْلُ ﴾ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے یوسف علیہ السلام اپنی صداقت پر واضح دلائل لے کر آئے اور تمھیں اپنے اکیلے رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ ﴿فَمَازِلْتُمْفِیْشَكٍّمِّؔمَّاجَآءَكُمْبِهٖ﴾”تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک میں رہے۔“ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ﴿حَتّٰۤىاِذَاهَلَكَ ﴾”حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوگئے۔“ تو تمھارے شک اور شرک میں مزید اضافہ ہو گیا اور ﴿قُلْتُمْلَ٘نْیَّبْعَثَاللّٰهُمِنْۢبَعْدِهٖرَسُوْلًا ﴾”تم نے کہا کہ اس کے بعد اللہ کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمھارا گمان باطل تھا اور تمھارا اندازہ قطعاً اس کی شان کے لائق نہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بے کار نہیں چھوڑتا کہ ان کو نہ نیکی کا حکم دے نہ برائی سے منع کرے، بلکہ ان کی طرف اپنے رسول مبعوث کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ رسول مبعوث نہیں کرتا گمراہی پر مبنی نظریہ ہے اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَیُضِلُّاللّٰهُمَنْهُوَمُسْرِفٌمُّرْتَابٌ﴾”اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔“ یہ ہے ان کا وہ حقیقی وصف جس سے انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو موصوف کیا۔ وہ حق سے تجاوز کر کے گمراہی میں مبتلا ہونے کے باعث حد سے گزرے ہوئے اور انتہائی جھوٹے لوگ تھے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور اس کے رسول کو جھٹلایا، پس جھوٹ اور حد سے تجاوز کرنا جس کا وصف لاینفک ہو اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نوازتا ہے نہ بھلائی کی توفیق سے بہرہ مند کرتا ہے کیونکہ جب حق اس کے پاس پہنچا تو اس نے حق کو پہچان لینے کے بعد بھی ٹھکرا دیا۔ پس اس کی جزا یہ ہے کہ اللہ اس سے ہدایت روک لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَلَمَّازَاغُوْۤااَزَاغَاللّٰهُقُلُوْبَهُمْ ﴾ (الصف: 61؍5) ”جب ان لوگوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ نیز فرمایا: ﴿وَنُقَلِّبُاَفْــِٕدَتَهُمْوَاَبْصَارَهُمْكَمَالَمْیُؤْمِنُوْابِهٖۤاَوَّلَمَرَّةٍوَّنَذَرُهُمْفِیْطُغْیَانِهِمْیَعْمَهُوْنَ﴾ (الانعام: 6؍110) ”ہم ان کے دل و نگاہ کو اسی طرح پھیر دیتے ہیں جس طرح وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔“ اور فرمایا: ﴿وَاللّٰهُلَایَهْدِیالْقَوْمَالظّٰلِمِیْنَ﴾ (البقرۃ:2؍258)”اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد جاءكم يوسفُ}: بنُ يعقوب عليهما السلام {من قبل}: إتيان موسى بالبينات الدَّالَّة على صدقه، وأمركم بعبادة ربِّكم وحده لا شريك له، {فما زلتُم في شكٍّ مما جاءكم به}: في حياته، {حتى إذا هَلَكَ}: ازداد شكُّكم وشرككم، {وقلتم لن يبعثَ الله من بعده رسولاً}؛ أي: هذا ظنكم الباطل وحسبانكم الذي لا يليق بالله تعالى؛ فإنَّه تعالى لا يترك خلقه سدى لا يأمرهم وينهاهم، بل يرسل إليهم رسله؛ وظنٌّ أنَّ الله لا يرسل رسولاً ظنُّ ضلال، ولهذا قال: {كذلك يضلُّ الله من هو مسرفٌ [مرتابٌ] }: وهذا هو وصفهم الحقيقيُّ الذي وصفوا به موسى ظلماً وعلوًّا؛ فهم المسرفون بتجاوزهم الحقَّ وعدولهم عنه إلى الضلال، وهم الكذبةُ حيث نسبوا ذلك إلى الله وكذَّبوا رسوله؛ فالذي وصفُه السرفُ والكذبُ لا ينفكُّ عنهما لا يهديه الله ولا يوفِّقه للخير؛ لأنه ردَّ الحقَّ بعد أن وصل إليه وعرفه؛ فجزاؤه أن يعاقِبَه الله بأن يَمْنَعَه الهدى؛ كما قال تعالى: {فلما زاغوا أزاغَ الله قلوبَهم}، {ونقلِّبُ أفئدتَهم وأبصارَهم كما لم يؤمِنوا به أولَ مرَّةٍ ونَذَرُهم في طغيانهم يَعْمَهون}، {واللهُ لا يهدي القوم الظالمينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔