ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 33

یَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِیۡنَ ۚ مَا لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾
جس دن تم پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے، تمھارے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ En
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
En
جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، تمہیں اللہ سے بچانے واﻻ کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراه کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) ➊ { يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ:} اس میں { يَوْمَ التَّنَادِ } کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں تم اللہ کے عذاب سے پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے۔
➋ { مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ:} مگر تمھیں اللہ سے، یعنی اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا، جیساکہ فرمایا: «يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ (10) كَلَّا لَا وَزَرَ (11) اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذٍ الْمُسْتَقَرُّ» ‏‏‏‏ [القیامۃ: ۱۰ تا ۱۲]انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔
➌ { وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ:} یعنی میں نے تمھیں نصیحت کر دی، مگر تمھاری ضد اور عناد کی وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ نے تمھیں گمراہی میں ہی پڑا رہنے کا ارادہ کر لیا ہے تو جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33۔ 1 یعنی موقف (میدان محشر) سے جہنم کی طرف جاؤ گے، یا حساب کے بعد وہاں سے بھاگو گے۔ 33۔ 2 جو اسے ہدایت کا راستہ بتاسکے یعنی چلا سکے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھرو گے مگر تمہیں اللہ سے [47] کوئی بچانے والا نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں
[47] اس سے مراد قیامت کا دن بھی ہو سکتا ہے اور کسی قوم پر عذاب کا دن بھی۔ لیکن اس وقت اگر کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگنا بھی چاہے تو وہ اللہ کی گرفت سے کبھی بچ نہیں سکتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اس مرد مومن نے ان کو اس ہولناک دن سے ڈرایا اور اسے اس پر بڑی تکلیف ہوئی کہ وہ اس کے باوجود اپنے شرک پر جمے ہوئے ہیں۔ بنابریں اس نے کہا: ﴿یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھروگے یعنی جب تمھیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ﴿مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ تو تمھیں اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ یعنی تم خود اپنی طاقت سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکو گے نہ اللہ کے سوا کوئی تمھاری مدد کر سکے گا۔ ﴿یَوْمَ تُ٘بْلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ (الطلاق: 86؍9، 10) جس روز دلوں کے بھید جانچے جائیں گے، اس روز اس کا بس چلے گا نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔ ﴿وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بارے میں یہ جانتے ہوئے کہ وہ اپنی خباثت کی وجہ سے ہدایت کے لائق نہیں، ہدایت سے محروم کر دے، تو اس کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فخوَّفهم رضي الله عنه هذا اليوم المهول، وتوجَّع لهم إن أقاموا على شركِهِم بذلك، ولهذا قال: {يوم تولُّون مدبرينَ}؛ أي: قد ذهب بكم إلى النار. {ما لكم من الله من عاصم}: لا من أنفسكم قوَّة تدفعون بها عذابَ الله ولا ينصرُكم من دونِهِ من أحدٍ، {يوم تُبْلى السرائرُ. فما له من قوَّةٍ ولا ناصرٍ}. {ومن يُضْلِلِ الله فما له من هادٍ}: لأن الهدى بيد الله تعالى. فإذا منع عبدَه الهدى لعلمِهِ أنه غير لائق به لخبثه؛ فلا سبيل إلى هدايته.