تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 32

وَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ یَوۡمَ التَّنَادِ ﴿ۙ۳۲﴾
اور اے میری قوم! یقینا میں تم پر ایک دوسرے کو پکارنے کے دن سے ڈرتا ہوں۔ En
اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے
En
اور مجھے تم پر ہانک پکار کے دن کابھی ڈر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس نے ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اخروی عقوبت سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿وَیٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِ اے قوم! مجھے تمھاری نسبت پکار (قیامت) کے دن کا خوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن کا جب اہل جنت اہل جہنم کو پکاریں گے: ﴿ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ۰۰ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَیَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ (الاعراف: 7؍44، 45) ہم نے تو ان وعدوں کو سچا پایا جو ہم سے ہمارے رب نے کیے تھے، کیا تم سے تمھارے رب نے جو وعدے کیے تھے تم نے بھی انھیں سچا پایا؟ وه کہیں گے: ہاں! پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہو جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے (بھی) منکر تھے۔ اور اہل جہنم اہل جنت کو پکاریں گے: ﴿وَنَادٰۤى اَصْحٰؔبُ النَّارِ اَصْحٰؔبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ (الاعراف: 7؍50) جہنمی اہل جنت کو پکاریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بھی بہا دو، یا اس رزق میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو، جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ اہل جنت جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ اور جب اہل جہنم، داروغۂ جہنم (مالک) کو پکاریں گے تو وہ انھیں جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمْ مّٰكِثُوْنَ (الزخرف: 43؍77) تم جہنم میں رہو گے۔ اور جب اہل جہنم اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰ٘لِمُوْنَ (المومنؤن: 23؍107) اے ہمارے رب! ہمیں اس جہنم سے نکال اگر ہم دوبارہ نافرمانی کریں تو بے شک ہم ظالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں جواب دے گا: ﴿ اخْسَـُٔوْا فِیْهَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ (المومنؤن: 23؍108) دفع ہو جاؤ اور پڑے رہو اسی جہنم میں اور میرے ساتھ بات نہ کرو۔ اور جب مشرکین سے کہا جائے گا: ﴿ادْعُوْا شُ٘رَؔكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ (القصص: 28؍64) اپنے خودساختہ شریکوں کو پکارو! وہ انھیں پکاریں گے، مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا خوَّفهم العقوباتِ الدنيويةَ؛ خوَّفهم العقوباتِ الأخرويةَ، فقال: {ويا قوم إنِّي أخاف عليكم يومَ التَّناد}؛ أي: يوم القيامة؛ حين ينادي أهلُ الجنة أهل النار: {أن قد وجَدْنا ما وعَدَنا ربُّنا حقًّا ... } إلى آخر الآيات، {ونادى أصحابُ النارِ أصحابَ الجنَّة أن أفيضوا علينا من الماءِ أو ممَّا رزَقَكُم الله قالوا إنَّ الله حرَّمَهما على الكافرين}، وحين ينادي أهلُ النار مالكاً: {ليقضِ علينا ربُّك}، فيقول: {إنَّكم ماكثون}، وحين ينادون ربَّهم: {ربَّنا أخْرِجْنا منها فإنْ عُدْنا فإنَّا ظالمون}، فيجيبهم: {اخسؤوا فيها ولا تكلِّمونِ}، وحين يُقالُ للمشركين: {ادْعوا شركاءَكم فَدَعَوْهم فلم يستجيبوا لهم}.