بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے اور تو خیانت کرنے والوں کی خاطر جھگڑنے والا نہ بن۔
En
(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا
یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتْكَلِمَتُرَبِّكَصِدْقًاوَّعَدْلًا ﴾ (الانعام: 6؍115) ”تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔“
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنْزَلْنَاۤاِلَیْكَالذِّكْرَلِتُبَیِّنَلِلنَّاسِمَانُزِّلَاِلَیْهِمْ ﴾ (النحل: 16؍44) ”ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔“ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔
فرمایا: ﴿ بِمَاۤاَرٰىكَاللّٰهُ ﴾”اللہ کی ہدایات کے مطابق“ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَایَنْطِقُعَنِالْهَوٰى ؕ۰۰ اِنْهُوَاِلَّاوَحْیٌیُّوْحٰؔى﴾ (النجم: 53؍3۔4) ”ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔“
یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤاَرٰىكَاللّٰهُ ﴾”اللہ کی ہدایات کے مطابق“ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَارَایْتَ) ”جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے“ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَاتَكُ٘نْلِّلْخَآىِٕنِیْنَخَصِیْمًا﴾”اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو“ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔
آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أنزل على عبدِهِ ورسولِهِ الكتاب بالحقِّ؛ أي: محفوظاً في إنزاله من الشياطين أن يتطرَّق إليه منهم باطل، بل نزل بالحقِّ ومشتملاً أيضاً على الحقِّ؛ فأخباره صدقٌ وأوامره ونواهيه عدلٌ، {وتمَّتْ كلمةُ ربِّك صدقاً وعدلاً}، وأخبر أنه أنزله ليحكم بين الناس، وفي الآية الأخرى: {وأنْزَلْنا إليك الذِّكْر لِتُبَيِّنَ للناس ما نُزِّلَ إليهم}، فيحتَمَل أنَّ هذه الآية في الحكم بين الناس في مسائل النزاع والاختلاف، وتلك في تبيين جميع الدِّين وأصوله وفروعه. ويُحتمل أنَّ الآيتين كليهما معناهما واحدٌ، فيكون الحكم بين الناس هنا يشملُ الحكم بينهم في الدِّماء والأعراض والأموال وسائر الحقوق وفي العقائد وفي جميع مسائل الأحكام. وقولُه: {بما أراك الله}، أي: لا بهواك بل بما علمك الله وأَلْهَمَكَ كقوله تعالى: {وما ينطِقُ عن الهوى، إن هو إلا وَحْيٌ يُوحى}. وفي هذا دليلٌ على عصمتِهِ - صلى الله عليه وسلم - فيما يُبَلِّغُ عن الله من جميع الأحكام وغيرِها، وأنَّه يُشْتَرط في الحَكَم العلم والعدل؛ لقوله: {بما أراك الله}، ولم يقلْ: بما رأيتَ. ورتَّب أيضاً الحكم بين الناس على معرفة الكتاب.
ولما أمر الله بالحكم بين الناس المتضمِّن للعدل والقِسْط؛ نهاه عن الجَوْر والظُّلم الذي هو ضدُّ العدل، فقال: {ولا تكن للخائنينَ خَصيماً}؛ أي: لا تخاصِمْ عن من عَرَفْتَ خيانته من مدَّعٍ ما ليس له أو منكرٍ حقًّا عليه سواء علم ذلك أو ظنَّه. ففي هذا دليل على تحريم الخصومة في باطل، والنيابة عن المبطل في الخصومات الدينيَّة والحقوق الدنيويَّة، ويدلُّ مفهوم الآية على جوازِ الدُّخول في نيابة الخصومة لمن لم يُعْرَفْ منه ظلمٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔