تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 104

وَ لَا تَہِنُوۡا فِی ابۡتِغَآءِ الۡقَوۡمِ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ یَاۡلَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَ تَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرۡجُوۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪
اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہارو، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقینا وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے
En
ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہارے دل ہو کر بیٹھ نہ رہو! اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے اور تم اللہ تعالیٰ سے وه امیدیں رکھتے ہو، جو امیدیں انہیں نہیں، اور اللہ تعالیٰ دانا اور حکیم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اپنے دشمن کفار کو طلب کرنے ان کے خلاف جہاد اور ان کے مقابلے میں تیار رہنے میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دل کی کمزوری بدن کی کمزوری کو دعوت دیتی ہے۔ اور یہ کمزوری دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا باعث بنتی ہے بلکہ دشمن کے خلاف جنگ میں چست و چالاک اور طاقتور بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کے دل کو قوت بخشتے ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں:
اول: جس درد و الم، مشقت اور تھکاوٹ اور زخموں وغیرہ کا تمھیں سامنا کرنا پڑتا ہے انھی چیزوں کا سامنا تمھارے دشمن کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انسانی مروت اور اسلامی شجاعت و شہامت کے شایاں نہیں کہ تم ان کے مقابلے میں زیادہ کمزوری کا مظاہرہ کرو جبکہ تمھیں اور ان کو برابر کی تکالیف کا سامنا ہے۔ عادت جاریہ یہ ہے کہ صرف وہی شخص کمزور ہوتا ہے جو نہایت تسلسل کے ساتھ رنج و آلام کا شکار رہا ہو اور دشمن دائمی طور پر اس پر غالب ہو۔ نہ کہ وہ شخص جو کبھی غالب رہا ہو اور کبھی مغلوب۔
ثانی: اللہ تعالیٰ پر جو امید تم رکھتے ہو وہ امید کفار نہیں رکھتے۔ تم اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عذاب سے نجات کی امید رکھتے ہو بلکہ خواص اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اس کی شریعت کے نفاذ، گمراہوں کی راہ نمائی اور دین کے دشمنوں کے قلع قمع جیسے بلند مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
پس یہ تمام امور صاحب تصدیق مومن کی قوت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان سے ان کی چستی اور بہادری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جو دنیاوی عزت و جاہ کے حصول کی خاطر جنگ کرتا ہے اور اس میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی مانند تو نہیں ہو سکتا جو دنیاوی اور اخروی سعادت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کی خاطر لڑتا ہے۔
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے ذریعے سے ان کے مابین تفریق کی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا اور اللہ سب کچھ جانتا، بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی وہ علم کامل اور حکمت کامل کا مالک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا تضعُفوا ولا تكسلوا في ابتغاء عدوِّكم من الكفَّار؛ أي: في جهادهم والمرابطة على ذلك؛ فإنَّ وَهَنَ القلب مستدعٍ لوَهَن البدن، وذلك يضعف عن مقاومة الأعداء، بل كونوا أقوياء نشيطين في قتالهم. ثم ذكر ما يقوِّي قلوب المؤمنين، فذكر شيئين:

الأول: أنَّ ما يصيبكم من الألم والتعب والجراح ونحو ذلك؛ فإنه يصيب أعداءكم، فليس من المروءة الإنسانيَّة والشهامة الإسلاميَّة أن تكونوا أضعفَ منهم وأنتم وهم قد تساوَيْتم فيما يوجِبُ ذلك؛ لأنَّ العادة الجارية أنه لا يَضْعُفُ إلاَّ من توالت عليه الآلام، وانتصر عليه الأعداء على الدوام، لا مَن يُدال مرةً ويُدال عليه أخرى.

الأمر الثاني: أنكم ترجونَ من الله ما لا يرجون، فترجون الفوز بثوابِهِ والنجاة من عقابه، بل خواصُّ المؤمنين لهم مقاصدُ عاليةٌ وآمال رفيعةٌ من نصر دين الله وإقامة شرعه واتِّساع دائرة الإسلام وهداية الضالِّين وقمع أعداء الدين؛ فهذه الأمور توجب للمؤمن المصدق زيادة القوة وتضاعف النشاط والشجاعة التامَّة؛ لأنَّ من يقاتل ويصبر على نيل عزِّه الدُّنيويِّ إن ناله ليس كمن يقاتِلُ لنيل السعادة الدنيويَّة والأخرويَّة والفوز برضوان الله وجنَّته؛ فسبحان من فاوت بين العباد وفرَّق بينهم بعلمِهِ وحكمتِهِ، ولهذا قال: {وكان الله عليماً حكيماً}: كامل العلم كامل الحكمةِ.