تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 106

وَّ اسۡتَغۡفِرِ اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۶﴾ۚ
اور اللہ سے بخشش مانگ، یقینا اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو! بے شک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰهَ اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَ٘فُوْرًا رَّحِیْمًا بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واستغفرِ الله}: مما صَدَرَ منك إنْ صدر. {إنَّ الله كان غفوراً رحيماً}؛ أي: يغفر الذنب العظيم لمن استغفره، وتاب إليه وأناب، يوفِّقه للعمل الصالح بعد ذلك الموجب لثوابِهِ وزوال عقابِهِ.