تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا: } اس سے مراد ابیرق کے بیٹے ہیں کہ آپ ان کی حمایت نہ کریں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانے کی ضرورت نہ تھی کہ ”آپ ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[144] اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بنا پر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پر ہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔ مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2680]
مسند احمد میں ہے کہ { دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہو سکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ } ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ { میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی۔ } ۱؎ [مسند احمد:308/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]
چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بے خبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ }
اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں «يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا» ۱؎ [4-النساء:108] سے دو آیتیں نازل ہوئیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه أنزل على عبدِهِ ورسولِهِ الكتاب بالحقِّ؛ أي: محفوظاً في إنزاله من الشياطين أن يتطرَّق إليه منهم باطل، بل نزل بالحقِّ ومشتملاً أيضاً على الحقِّ؛ فأخباره صدقٌ وأوامره ونواهيه عدلٌ، {وتمَّتْ كلمةُ ربِّك صدقاً وعدلاً}، وأخبر أنه أنزله ليحكم بين الناس، وفي الآية الأخرى: {وأنْزَلْنا إليك الذِّكْر لِتُبَيِّنَ للناس ما نُزِّلَ إليهم}، فيحتَمَل أنَّ هذه الآية في الحكم بين الناس في مسائل النزاع والاختلاف، وتلك في تبيين جميع الدِّين وأصوله وفروعه. ويُحتمل أنَّ الآيتين كليهما معناهما واحدٌ، فيكون الحكم بين الناس هنا يشملُ الحكم بينهم في الدِّماء والأعراض والأموال وسائر الحقوق وفي العقائد وفي جميع مسائل الأحكام. وقولُه: {بما أراك الله}، أي: لا بهواك بل بما علمك الله وأَلْهَمَكَ كقوله تعالى: {وما ينطِقُ عن الهوى، إن هو إلا وَحْيٌ يُوحى}. وفي هذا دليلٌ على عصمتِهِ - صلى الله عليه وسلم - فيما يُبَلِّغُ عن الله من جميع الأحكام وغيرِها، وأنَّه يُشْتَرط في الحَكَم العلم والعدل؛ لقوله: {بما أراك الله}، ولم يقلْ: بما رأيتَ. ورتَّب أيضاً الحكم بين الناس على معرفة الكتاب.
ولما أمر الله بالحكم بين الناس المتضمِّن للعدل والقِسْط؛ نهاه عن الجَوْر والظُّلم الذي هو ضدُّ العدل، فقال: {ولا تكن للخائنينَ خَصيماً}؛ أي: لا تخاصِمْ عن من عَرَفْتَ خيانته من مدَّعٍ ما ليس له أو منكرٍ حقًّا عليه سواء علم ذلك أو ظنَّه. ففي هذا دليل على تحريم الخصومة في باطل، والنيابة عن المبطل في الخصومات الدينيَّة والحقوق الدنيويَّة، ويدلُّ مفهوم الآية على جوازِ الدُّخول في نيابة الخصومة لمن لم يُعْرَفْ منه ظلمٌ.