ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 105

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِتَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللّٰہُ ؕ وَ لَا تَکُنۡ لِّلۡخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا ﴿۱۰۵﴾ۙ
بے شک ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، تاکہ تو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے دکھایا ہے اور تو خیانت کرنے والوں کی خاطر جھگڑنے والا نہ بن۔ En
(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا
En
یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 105) ➊ {اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ …:} جمہور مفسرین نے ان آیات (۱۰5 سے ۱۱4 تک) کی شان نزول چوری کا ایک واقعہ بتایا ہے، جو ترمذی میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ بشر، بشیر اور مبشر تین بھائی تھے، جو ابیرق یا طعمہ بن ابیرق کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا کہ ان میں سے بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی، یہ لوگ مدینہ کے قبیلہ بنو ظفر سے تھے۔ ان میں بشیر سب سے بد تر تھا، یہ شخص منافق تھا اور مسلمانوں کی ہجو کر کے وہ شعر دوسروں کے نام لگا دیتا تھا۔ یہ غریب فاقہ زدہ لوگ تھے اور رفاعہ بن زید کے ہمسائے تھے۔ ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ میدہ لے کر آیا تو رفاعہ بن زید نے اس میں سے ایک بوری خرید لی۔ مدینہ کے لوگ آٹا کھاتے تھے، رہا میدہ تو وہ گھر کے بڑے آدمیوں کے لیے سنبھال کر رکھ لیا جاتا تھا۔ رفاعہ نے وہ میدہ اپنے اسلحہ کے سٹور میں اسلحہ کے ساتھ محفوظ کر دیا۔ ابیرق کے بیٹوں نے سٹور میں نقب لگا کر میدہ اور اسلحہ چرا لیا۔ صبح ہوئی تو رفاعہ نے اپنا اسلحہ اور میدہ نقب لگا کر چرانے کی بات اپنے بھتیجے قتادہ بن نعمان کے ساتھ کی۔ اب اس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ اس رات ابیرق کے بیٹوں نے آگ جلائی تھی اور شاید انھوں نے رفاعہ کے میدہ ہی سے کھانا تیار کیا ہو۔ جب ابیرق کے بیٹوں کا راز فاش ہو گیا تو انھوں نے چوری کا وہ اسلحہ وغیرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دیا اور ان کے قبیلے بنو ظفر کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت کی کہ رفاعہ بن زید اور اس کے بھتیجے نے ہمارے ایک گھر والوں پر، جو ایمان دار اور نیک لوگ ہیں، چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بلا دلیل ایمان دار نیک لوگوں پر چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ ان لوگوں نے مشہور کر دیا کہ مسروقہ سامان یہودی کے گھر سے نکلا ہے، تو اس پر یہ آیات اتریں۔ [ترمذی، التفسیر، باب ومن سورۃ النساء: ۳۰۳۶] اللہ تعالیٰ نے معاملے کی حقیقت کھول دی، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جرم تو بنو ابیرق کا تھا، مگر مجرم یہودی کو بنا دیا گیا،کیونکہ وہ اپنا نہیں تھا۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاف پر بہت بڑا دھبا آ سکتا تھا۔
➋ {وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا: } اس سے مراد ابیرق کے بیٹے ہیں کہ آپ ان کی حمایت نہ کریں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانے کی ضرورت نہ تھی کہ آپ ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 ان آیات (14 سے 113 تک) کے شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشیر بن ابیرق نے ایک انصاری کی زرہ چرالی، جب اس کا چرچہ ہوا اور اسے بےنقاب ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی اور بنی ظفر کے کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، ان سب نے کہا زرہ چوری کرنے والا فلاں یہودی ہے، یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا بنی ابیرق نے زرہ چوری کرکے میرے گھر پھینک دی ہے۔ بنی ظفر اور بنی ایبرق (طمعہ بشیر وغیرہ) ہوشیار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باور کراتے رہے کہ چور یہودی ہے اور طعمہ پر الزام لگانے میں جھوٹا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی انکی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہوگئے اور قریب تھا کہ اس انصاری کو چوری کے الزام سے بری کرکے یہودی پر چوری کی فرد جرم عائد فرما دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی، جس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بحیثیت ایک انسان غلط فہمی میں پڑ سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فوراً صورتحال واضح ہوجاتی تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر کبھی حق کے پوشیدہ رہ جانے اور اس سے ادھر ادھر ہوجانے کا مرحلہ آجائے تو فورا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ فرما دیتا اور اس کی اصلاح فرما دیتا ہے جیسا کہ عصمت انبیا کا تقاضا ہے یہ وہ مقام عصمت ہے جو انبیاء کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ 15۔ 2 اس سے مراد وہی بنی ابیرق ہیں۔ جنہوں نے چوری خود کی لیکن اپنی چرب زبانی سے یہودی کو چور باور کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ اگلی آیت میں بھی ان کے اور ان کے حماتیوں کے غلط کردار کو نمایاں کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردار کیا جا رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ جو کچھ بصیرت اللہ نے آپ کو عطا کی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان [143] فیصلہ کریں اور آپ کو بد دیانت [144] لوگوں کی حمایت میں جھگڑا نہ کرنا چاہیے
[143] گمشدہ سامان سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی:۔
اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔ تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہوا تھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہو گئی۔ اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرا دی جہاں سے کچھ برآمد نہ ہو سکا۔ اب مالک پیچھا کرتا ہوا اس یہودی کے ہاں پہنچا اور اپنی چوری کا ذکر کیا تو یہودی کہنے لگا ایسی زرہ تو میرے پاس موجود ہے لیکن وہ تو فلاں شخص نے میرے پاس بطور امانت رکھی ہے۔ لہٰذا میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ بالآخر مالک یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گیا۔ اب چور اور اس کے خاندان والوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اصل مجرم اس یہودی کو ہی ثابت کیا جائے اور امانت کا درمیان میں نام ہی نہ آنے دیا جائے اور اس واقعہ سے قطعی لاعلمی کا اظہار کر دیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ آپ یہود کی بات کا اعتبار نہیں کریں گے اس طرح ہم بری ہو جائیں گے۔ چنانچہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ انصاری چور اور اس کے حمایتیوں نے اس واقعہ سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا اور قسمیں بھی کھانے لگے جس کے نتیجہ میں آپ ان خائنوں کی باتوں میں آ گئے اور یہودی کو جھوٹا سمجھا اور قریب تھا کہ آپ اس انصاری چور کو بری قرار دے دیں اور یہودی کو مجرم قرار دے دیں اور یہودی کے حق میں قطع ید کا فیصلہ سنا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اصل صورت حال سے مطلع فرما دیا اور تنبیہ فرمائی، کہ آپ کو ایسے بد دیانت لوگوں کی قطعاً حمایت نہ کرنا چاہیے۔
[144] اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بنا پر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پر ہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔ مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حقیقت چھپ نہیں سکتی ٭٭
اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے۔
بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لیے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2680]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہو سکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ } ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ { میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی۔ } ۱؎ [مسند احمد:308/6،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابن مردویہ میں ہے کہ { انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا۔
چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بے خبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ }
اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں «يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:108]‏‏‏‏ سے دو آیتیں نازل ہوئیں۔
پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10413/9:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا (الانعام: 6؍115) تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ (النحل: 16؍44) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔
فرمایا: ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ اللہ کی ہدایات کے مطابق یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ۰۰ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰؔى (النجم: 53؍3۔4) ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ اللہ کی ہدایات کے مطابق اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُ٘نْ لِّلْخَآىِٕنِیْنَ خَصِیْمًا اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔
آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه أنزل على عبدِهِ ورسولِهِ الكتاب بالحقِّ؛ أي: محفوظاً في إنزاله من الشياطين أن يتطرَّق إليه منهم باطل، بل نزل بالحقِّ ومشتملاً أيضاً على الحقِّ؛ فأخباره صدقٌ وأوامره ونواهيه عدلٌ، {وتمَّتْ كلمةُ ربِّك صدقاً وعدلاً}، وأخبر أنه أنزله ليحكم بين الناس، وفي الآية الأخرى: {وأنْزَلْنا إليك الذِّكْر لِتُبَيِّنَ للناس ما نُزِّلَ إليهم}، فيحتَمَل أنَّ هذه الآية في الحكم بين الناس في مسائل النزاع والاختلاف، وتلك في تبيين جميع الدِّين وأصوله وفروعه. ويُحتمل أنَّ الآيتين كليهما معناهما واحدٌ، فيكون الحكم بين الناس هنا يشملُ الحكم بينهم في الدِّماء والأعراض والأموال وسائر الحقوق وفي العقائد وفي جميع مسائل الأحكام. وقولُه: {بما أراك الله}، أي: لا بهواك بل بما علمك الله وأَلْهَمَكَ كقوله تعالى: {وما ينطِقُ عن الهوى، إن هو إلا وَحْيٌ يُوحى}. وفي هذا دليلٌ على عصمتِهِ - صلى الله عليه وسلم - فيما يُبَلِّغُ عن الله من جميع الأحكام وغيرِها، وأنَّه يُشْتَرط في الحَكَم العلم والعدل؛ لقوله: {بما أراك الله}، ولم يقلْ: بما رأيتَ. ورتَّب أيضاً الحكم بين الناس على معرفة الكتاب.

ولما أمر الله بالحكم بين الناس المتضمِّن للعدل والقِسْط؛ نهاه عن الجَوْر والظُّلم الذي هو ضدُّ العدل، فقال: {ولا تكن للخائنينَ خَصيماً}؛ أي: لا تخاصِمْ عن من عَرَفْتَ خيانته من مدَّعٍ ما ليس له أو منكرٍ حقًّا عليه سواء علم ذلك أو ظنَّه. ففي هذا دليل على تحريم الخصومة في باطل، والنيابة عن المبطل في الخصومات الدينيَّة والحقوق الدنيويَّة، ويدلُّ مفهوم الآية على جوازِ الدُّخول في نيابة الخصومة لمن لم يُعْرَفْ منه ظلمٌ.