اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنا لیں۔ سو عمل کرنے والوں کا یہ اچھا اجر ہے۔
En
وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدہ کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے
یہ کہیں گے کہ اللہ کاشکر ہے کہ جس نے ہم سے اپنا وعده پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں مقام کریں پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿الْحَمْدُلِلّٰهِالَّذِیْصَدَقَنَاوَعْدَهٗ﴾”اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوْرَثَنَاالْاَرْضَ ﴾”اور ہمیں زمین کا وارث بنایا“ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُمِنَالْؔجَنَّةِحَیْثُنَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعْمَاَجْرُالْعٰمِلِیْ٘نَ ﴾”پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔“ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا} عند دخولهم فيها واستقرارِهِم حامدينَ ربَّهم على ما أوْلاهم ومَنَّ عليهم وهداهم: {الحمدُ لله الذي صَدَقَنا وَعْدَه}؛ أي: وَعَدَنا الجنة على ألسنةِ رسلِهِ أنْ آمَنَّا وصَلَحْنا؛ فوفى لنا بما وَعَدَنا وأنجزَ لنا ما مَنَّانا، {وأوْرَثَنا الأرضَ}؛ أي: أرض الجنة {نَتَبَوَّأُ من الجنَّةِ حيثُ نشاءُ}؛ أي: ننزل منها أيَّ مكان شِئْنا، ونتناول منها أيَّ نعيم أرَدْنا، ليس ممنوعاً عنَّا شيءٌ نريدُه، {فنعم أجرُ العاملينَ}: الذين اجْتَهَدوا بطاعةِ ربِّهم في زمنٍ قليل منقطع، فنالوا بذلك خيراً عظيماً باقياً مستمرًّا. وهذه الدارُ التي تستحقُّ المدحَ على الحقيقة، التي يُكْرِمُ الله فيها خواصَّ خَلْقِهِ، ورضِيَها الجوادُ الكريمُ لهم نُزُلاً، وبنى أعلاها وأحَسَنها وغَرَسَها بيدِهِ وحشاها من رحمتِهِ وكرامتِهِ ما ببعضِه يفرح الحزينُ، ويزولُ الكَدَرُ، ويتمُّ الصفاءُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔