تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ:} آدمی جس چیز کا وارث بنتا ہے اس کا پوری طرح مالک بن جاتا ہے، کوئی دوسرا اس پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ انھیں ان جگہوں کا بھی مالک بنایا جائے گا جو جہنم میں جانے والوں کی تھیں، اگر وہ نیک عمل کرتے اور یہ مالکانہ حقوق ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔
➌ {نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جنتی اگر چاہے تو کیا دوسرے اہلِ جنت کے گھروں میں اپنی جگہ بنا سکے گا؟ اس کے جواب میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کو حکم ہے کہ جہاں چاہیں رہیں، لیکن ہر کوئی وہی جگہ چاہے گا جو اس کے واسطے پہلے سے رکھی ہے۔“ (موضح) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر جنتی کے پاس اتنی جگہ ہو گی کہ اسے کسی اور کی جگہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ جہنم سے نکل کر جنت میں جانے والے شخص کو اللہ تعالیٰ زمین کے برابر اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا زیادہ جگہ عطا فرمائے گا۔ [دیکھیے بخاري، الأذان، باب فضل السجود: ۸۰۶] ظاہر ہے اتنی جگہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی جگہ کی خواہش کوئی کمینہ شخص ہی کرے گا، جب کہ جنت میں کسی کمینگی یا کمینے شخص کی گنجائش ہی نہیں۔
➍ { فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ:} یہ بات متقی کہیں گے یا فرشتے، یا یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[95] اس جملہ کی نسبت متقین کی طرف بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ بات کہیں گے۔ فرشتوں کی طرف بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
{ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف]، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105]، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
{ ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔
نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔
اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالوا} عند دخولهم فيها واستقرارِهِم حامدينَ ربَّهم على ما أوْلاهم ومَنَّ عليهم وهداهم: {الحمدُ لله الذي صَدَقَنا وَعْدَه}؛ أي: وَعَدَنا الجنة على ألسنةِ رسلِهِ أنْ آمَنَّا وصَلَحْنا؛ فوفى لنا بما وَعَدَنا وأنجزَ لنا ما مَنَّانا، {وأوْرَثَنا الأرضَ}؛ أي: أرض الجنة {نَتَبَوَّأُ من الجنَّةِ حيثُ نشاءُ}؛ أي: ننزل منها أيَّ مكان شِئْنا، ونتناول منها أيَّ نعيم أرَدْنا، ليس ممنوعاً عنَّا شيءٌ نريدُه، {فنعم أجرُ العاملينَ}: الذين اجْتَهَدوا بطاعةِ ربِّهم في زمنٍ قليل منقطع، فنالوا بذلك خيراً عظيماً باقياً مستمرًّا. وهذه الدارُ التي تستحقُّ المدحَ على الحقيقة، التي يُكْرِمُ الله فيها خواصَّ خَلْقِهِ، ورضِيَها الجوادُ الكريمُ لهم نُزُلاً، وبنى أعلاها وأحَسَنها وغَرَسَها بيدِهِ وحشاها من رحمتِهِ وكرامتِهِ ما ببعضِه يفرح الحزينُ، ويزولُ الكَدَرُ، ويتمُّ الصفاءُ.