اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہو ئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا ا ور کہا جائے گا کہ سب تعریف ا للہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
En
تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے
اور تو فرشتوں کو اللہ کے عرش کے اردگرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَتَرَىالْمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّیْنَمِنْحَوْلِالْ٘عَرْشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿یُسَبِّحُوْنَبِحَمْدِرَبِّهِمْ ﴾ یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔
﴿وَقُ٘ضِیَبَیْنَهُمْ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالْحَقِّ ﴾” حق کے ساتھ۔“ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِیْلَالْحَمْدُلِلّٰهِرَبِّالْعٰلَمِیْنَ ﴾”اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وترى الملائكةَ}: أيُّها الرائي ذلك اليوم العظيم {حافِّينَ من حول العرشِ}؛ أي: قد قاموا في خدمةِ ربِّهم واجتمعوا حولَ عرشِهِ خاضعين لجلالِهِ معترِفين بكمالِهِ مستغرِقين بجمالِهِ، {يسبِّحونَ بحمدِ ربِّهم}؛ أي: ينزِّهونه عن كلِّ ما لا يَليقُ بجلالِهِ مما نَسَبَ إليه المشركون وما لم يَنْسبوا. {وقُضِيَ بينَهم}؛ أي: بين الأوَّلين والآخرين من الخلق {بالحقِّ}: الذي لا اشْتِباه فيه ولا إنْكارَ ممَّنْ عليه الحقُّ. {وقيلَ الحمدُ لله ربِّ العالمينَ}: لم يَذْكُرِ القائلَ مَنْ هو؛ ليدلَّ ذلك على أنَّ جميعَ الخلق نَطَقوا بحمد ربِّهم وحكمتِهِ على ما قضى به على أهل الجنةِ وأهل النارِ، حَمْدَ فضل وإحسانٍ، وحَمْدَ عدل وحكمةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔