تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 73

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾
اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔ En
اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ
En
اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے گروه کے گروه جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آ جائیں گے اور دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہاں کے نگہبان ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم خوش حال رہو تم اس میں ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الْؔجَنَّةِ زُمَرًا جنت کی طرف گروہ در گروہ۔ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتْ اور کھول دیے جائیں گے ان کے لیے ﴿ اَبْوَابُہَااس کے دروازے۔ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰ٘مٌ عَلَیْكُمْ تم پر سلامتی ہو تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبْتُمْ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادْخُلُوْهَا خٰؔلِدِیْنَ اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتْ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔
رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال عن أهل الجنة: {وسيق الذين اتَّقَوا رَبَّهم}: بتوحيده والعمل بطاعتِهِ سَوْقَ إكرام وإعزازٍ يُحْشَرون وَفْداً على النجائب {إلى الجنَّةِ زُمَراً}: فرحين مستبشرينَ، كلُّ زمرةٍ مع الزمرةِ التي تناسِبُ عَمَلَها وتشاكِلُه، {حتى إذا جاؤوها}؛ أي: وصلوا لتلك الرحابِ الرحيبةِ والمنازل الأنيقةِ، وهبَّ عليهم ريحها ونسيمُها وآنَ خلودُها ونعيمُها، {وفُتِحَتْ} لهم {أبوابُها}: فَتْحَ إكرام لكرام الخَلْقِ لِيُكْرَموا فيها، {وقال لهم خَزَنَتُها}: تهنئةً لهم وترحيباً: {سلامٌ عليكم}؛ أي: سلامٌ من كلِّ آفةٍ وشرٍّ حالٌّ عليكم {طِبْتُمْ}؛ أي: طابت قلوبُكم بمعرفة الله ومحبَّتِهِ وخشيتِهِ، وألسنتُكم بذكرِهِ وجوارِحُكم بطاعتِهِ. {فـ} بسبب طِيبِكُم {ادْخُلوها خالدينَ}: لأنَّها الدارُ الطيِّبةُ، ولا يَليقُ بها إلا الطَّيِّبونَ. وقال في النار: {فُتِحَتْ أبوابُها}، وفي الجنة {وَفُتِحَتْ}: بالواو؛ إشارةً إلى أنَّ أهل النارِ بمجرَّدِ وصولهم إليها؛ فُتِحَتْ لهم أبوابُها من غير إنظارٍ ولا إمهال، وليكونَ فَتْحُها في وجوههم وعلى وصولِهِم أعظمَ لحرِّها وأشدَّ لعذابها، وأمَّا الجنةُ؛ فإنَّها الدارُ العاليةُ الغاليةُ، التي لا يوصَلُ إليها ولا ينالُها كلُّ أحدٍ إلاَّ مَنْ أتى بالوسائل الموصلةِ إليها، ومع ذلك؛ فيحتاجون لِدُخولها لشفاعةِ أكرم الشفعاءِ عليه، فلم تُفْتَحْ لهم بمجرَّد ما وصلوا إليها، بل يستشفعون إلى الله بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، حتى يشفعَ، فيشفِّعَه الله تعالى.

وفي الآيات دليلٌ على أنَّ النارَ والجنةَ لهما أبوابٌ تُفْتَحُ وتُغْلَقُ، وأنَّ لكلٍّ منهما خزنة، وهما الدارانِ الخالصتانِ اللتانِ لا يَدْخُلُ فيهما إلا مَنِ استَحَقَّهما؛ بخلاف سائر الأمكنةِ والدُّورِ.