تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 72

قِیۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾
کہا جائے گا جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے، پس وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ En
کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے
En
کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ جہاں ہمیشہ رہیں گے، پس سرکشوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قِیْلَ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَ٘بِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقيل لهم على وجهِ الإهانة والإذلال: {ادْخُلوا أبوابَ جَهَنَّم}: كلُّ طائفةٍ تدخُلُ مع الباب الذي يناسِبُها ويوافقُ عملَها، {خالدينَ فيها}: أبداً لا يَظْعَنون عنها ولا يُفَتَّرُ عنهم العذابُ ساعةً ولا يُنْظَرونَ، {فبئس مثوى المتكبِّرينَ}؛ أي: بئس المَقَرُّ النارُ مقرُّهم، وذلك لأنَّهم تكبَّروا على الحقِّ، فجازاهم الله من جنس عملهم بالإهانة والذُّلِّ والخِزْي.