تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {”سَاقَ يَسُوْقُ“} میں سختی کے ساتھ ہانکنے کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں کفار کو سختی سے ہانک کر جہنم کی طرف لے جانے کا ذکر ہے، تو یہاں متقین کو جنت کی طرف لے جانے کے لیے یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ پہلے {” سِيْقَ “} کے ساتھ مشاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے، ورنہ یہاں اس لفظ سے مراد سختی سے لے جانا یا ہانکنا نہیں۔ اسے تجرید کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد صرف لے جانا ہے۔ مقصد دونوں کو لے جانے کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ اگرچہ دونوں کو لے جایا جائے گا، مگر کفار کو لے جانے میں سختی، دھکے اور اہانت و تذلیل ہو گی، جب کہ مومنوں کو اکرام کے ساتھ لے جایا جائے گا، جس کی دلیل بعد میں آنے والے الفاظ {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} اور {” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ہیں۔
➌ { زُمَرًا:} یہ جماعتیں درجات کے لحاظ سے ہوں گی، چنانچہ سب سے بلند درجات والے پہلے داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورۂ واقعہ: ۱۰) مثلاً انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اسی طرح درجہ بدرجہ جماعتیں جنت میں داخل ہوں گی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوْرَتُهُمْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُوْنَ فِيْهَا وَ لاَ يَمْتَخِطُوْنَ وَ لَا يَتَغَوَّطُوْنَ، آنِيَتُهُمْ فِيْهَا الذَّهَبُ، أَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَ مَجَامِرُهُمُ الْأُلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، يُرٰی مُخُّ سُوْقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، مِنَ الْحُسْنِ، لَا اخْتِلاَفَ بَيْنَهُمْ وَ لَا تَبَاغُضَ، قُلُوْبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ، يُسَبِّحُوْنَ اللّٰهَ بُكْرَةً وَ عَشِيًّا] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۴۵] ”پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، وہ نہ اس میں تھوکیں گے، نہ رینٹ پھینکیں گے اور نہ پاخانہ کریں گے۔ اس میں ان کے برتن سونے کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیاں {”اُلُوَّه“ } (جل کر خوشبو دینے والی ایک لکڑی) کی ہوں گی، ان کا پسینہ کستوری ہو گا، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں وہ ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز حسن کی وجہ سے گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا، نہ ایک دوسرے سے کوئی بغض ہو گا، ان کے دل ایک دل ہوں گے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔“ صحیح مسلم میں اسی حدیث میں ہے: [أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِيْ عَلٰی صُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ عَلٰی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ مَنَازِلُ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمہا و أھلھا، باب أول زمرۃ تدخل الجنۃ…: ۱۶؍۲۸۳۴] ”میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے، پھر جو ان کے بعد جائیں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اس کے بعد ان کے مختلف مراتب ہوں گے۔“
➍ جنتیوں کے گروہوں کی ایک تقسیم مختلف صالح اعمال میں خصوصیت کی بنا پر ہو گی، جن کی بنا پر انھیں مختلف دروازوں سے بلایا جائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَابِ يَعْنِی الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ اللّٰهِ! هٰذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصِّيَامِ، وَ بَابِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ أَبُوْ بَكْرٍ مَا عَلٰی هٰذَا الَّذِيْ يُدْعٰی مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُوْرَةٍ، وَ قَالَ هَلْ يُدْعٰی مِنْهَا كُلِّهَا أَحَدٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ نَعَمْ، وَ أَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ!] [بخاري، باب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۶] ”جو شخص کسی چیز کا ایک جوڑا اللہ کے راستے میں خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ خیر ہے۔ تو جو شخص نماز والوں سے ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو جہاد والوں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزے والوں سے ہو گا اسے روزے کے دروازے اور باب الریان (سیرابی کے دروازے) سے بلایا جائے گا۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس شخص کو ان دروازوں سے بلایا جائے اسے کوئی ضرورت تو نہیں، مگر یا رسول اللہ! کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ اے ابوبکر! تم بھی ان میں سے ہو گے۔“
➎ {حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یہاں {” فُتِحَتْ “} سے پہلے ”واؤ“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ متقین کی آمد پر جنت کے دروازے پہلے ہی کھول دیے گئے ہوں گے، جیسے کسی معظم و مکرم مہمان کے انتظار میں پہلے ہی دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا: «جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ» [صٓ: ۵۰] ”ہمیشہ رہنے کے باغات، اس حال میں کہ ان کے لیے دروازے پورے کھولے ہوئے ہوں گے۔“ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، فِيْهَا بَابٌ يُسَمَّی الرَّيَّانَ لاَ يَدْخُلُهُ إِلاَّ الصَّائِمُوْنَ] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ: ۳۲۵۷] ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے کا نام ریّان ہے، اس میں سے صرف خاص روزے دار داخل ہوں گے۔“
➏ { وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ …:} کفار کے برعکس متقین کی جنت کے پاس آمد پر اس کے دربان فرشتے نہایت محبت کے ساتھ ان کا اکرام اور عزت افزائی کرتے ہوئے انھیں تین باتیں کہیں گے، پہلی یہ کہ تم پر سلام ہے، یعنی اب تم ہر تکلیف، غم اور خوف سے سلامت رہو گے۔ دوسری بات {” طِبْتُمْ “} ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ تم اس سے پہلے دنیا میں کفر و شرک سے پاک رہے، سو اس میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والے، دوسرا یہ کہ اب تم ہر گناہ اور بری بات سے پاک ہو گئے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰي إِذَا هُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّةِ] [بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ: ۶۵۳۵] ”مومن آگ سے بچ کر نکلیں گے تو انھیں جنت اور آگ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا، پھر انھیں ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا دلایا جائے گا جو دنیا میں آپس میں ہوئیں، پھر جب خوب پاک صاف ہو جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ تیسری بات یہ کہیں گے کہ چونکہ تم پاک ہو چکے، سو اب تم جنت میں ہمیشہ رہنے والے بن کر داخل ہو جاؤ۔ جنت میں داخلہ ہی بہت بڑی بشارت ہے، اس کے ساتھ ہمیشگی کی بشارت کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ [آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ]
➐ کفار کے متعلق جو فرمایا: {” اِذَا جَآءُوْهَا “} (جب وہ اس کے پاس آئیں گے) اس شرط کی جزا {” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “} (تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے) ہے، مگر متقین کے متعلق تینوں جملے شرط کا حصہ ہیں {” اِذَا جَآءُوْهَا “، ” وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا “ اور ” وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا “} ان کی جزا حذف کر دی گئی ہے، کیونکہ اس دنیا میں انسانی فکر اس کی بلندی تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ گویا عبارت یوں ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہو جاؤ، پاکیزہ رہنے والے، تو مت پوچھو کہ وہ کس قدر خوش ہوں گے، کیونکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ کتنی بڑی نعمت حاصل کریں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صور کی مطول حدیث میں ہے کہ { جنت کے دروازوں پر پہنچ کر یہ آپس میں مشورہ کریں گے کہ دیکھو سب سے پہلے کسے اجازت دی جاتی ہے، پھر وہ آدم علیہ السلام کا قصد کریں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کا پھر ابراہیم علیہ السلام کا پھر موسیٰ علیہ السلام کا پھر عیسیٰ علیہ السلام کا پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علیہم کا۔ جیسے میدان محشر میں شفاعت کے موقعہ پر بھی کیا تھا۔ اس سے بڑا مقصد جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا موقعہ بموقعہ اظہار کرنا ہے }۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { میں جنت میں پہلا سفارشی ہوں }۔ ایک اور روایت میں ہے { میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:196]
مسند احمد میں ہے { میں قیامت کے دن جنت کا دروازہ کھلوانا چاہوں گا تو وہاں کا دروازہ مجھ سے پوچھے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ کہے گا مجھے یہی حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جنت کا دروازہ کسی کیلئے نہ کھولوں }۔۱؎ [صحیح مسلم:197]
{ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد والی جماعت کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے بہترین چمکتا ستارہ پھر قریب قریب اوپر والی حدیث کے بیان ہے اور یہ بھی ہے کہ ان کے قد ساٹھ ہاتھ کے ہوں گے۔ جیسے آدم علیہ السلام کا قد تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3327]
اور حدیث میں ہے کہ { میری امت کی ایک جماعت جو ستر ہزار کی تعداد میں ہو گی پہلے پہل جنت میں داخل ہو گی ان کے چہرے چودھریں رات کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کر دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ { اللہ انہیں بھی انہی میں سے کر دے }، پھر ایک انصاری نے بھی یہی عرض کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عکاشہ تجھ پر سبقت لے گیا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5811] ان ستر ہزار کا بے حساب جنت میں داخل ہونا بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
بخاری مسلم میں ہے کہ { سب ایک ساتھ ہی جنت میں قدم رکھیں گے ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہوں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6543]
ابن ابی شیبہ میں ہے { مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ان سے نہ حساب ہو گا نہ انہیں عذاب ہو گا۔ ان کے علاوہ اور تین لپیں بھر کر، جو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھوں سے لپ بھر کر جنت میں پہنچائے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2437،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔ اس روایت میں ہے پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے۔۱؎ [طبرانی کبیر:126/17:اسنادہ ضعیف وله شواهد صحیحه] اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔
جب یہ سعید بخت بزرگ جنت کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ان کیلئے دروازے کھل جائیں گے ان کی وہاں عزت و تعظیم ہو گی وہاں کے محافظ فرشتے انہیں بشارت سنائیں گے ان کی تعریفیں کریں گے انہیں سلام کریں گے۔ اس کے بعد کا جواب قرآن میں محذوف رکھا گیا ہے تاکہ عمومیت باقی رہے۔
ہاں یہاں یہ بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ «وَفُتِحَتْ» میں واؤ آٹھویں ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں، انہوں نے بڑا تکلف کیا ہے اور بیکار مشقت اٹھائی ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں کا ثبوت تو صحیح احادیث میں صاف موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے { جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کر لے وہ جنت کے سب دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جنت کے کئی ایک دروازے ہیں نمازی باب الصلوۃ سے سخی باب الصدقہ سے مجاہد باب جہاد سے روزے دار باب الریان سے بلائے جائیں گے یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گو اس کی ضرورت تو نہیں کہ ہر دروازے سے پکارا جائے جس سے بھی پکارا جائے مقصد تو جنت میں جانے سے ہے، لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے کل دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہی میں سے ہو گے} }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1897] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے { تم میں سے جو شخص کامل مکمل بہت اچھی طرح مل مل کر وضو کرے پھر «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ واَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے چلا جائے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:234] اور حدیث میں ہے { جنت کی کنجی «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:242/5:ضعیف]
”جنت کے دروازوں کی کشادگی کا بیان“ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے۔ شفاعت کی مطول حدیث میں ہے کہ { پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت میں سے جن پر حساب نہیں انہیں داہنی طرف کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ ‘ لیکن اور دروازوں میں بھی یہ دوسروں کے ساتھ شریک ہیں۔ اس قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے کہ جنت کی چوکھٹ اتنی بڑی وسعت والی ہے جتنا فاصلہ مکہ اور ہجر میں ہے۔ یا فرمایا ہجر اور مکہ میں ہے ایک روایت میں ہے مکہ اور بصریٰ میں ہے۔}۔۱؎ [صحیح بخاری:4812]
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت کی چوکھٹ چالیس سال کی راہ کی ہے } ۱؎ [مسند احمد:29/3:صحیح وهذا اسناد ضعیف]، یہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے انہیں فرشتے سلام کریں گے اور مبارکباد دیں گے کہ تمہارے اعمال تمہارے اقوال تمہاری کوشش اور تمہارا بدلہ ہرچیز خوشی والی اور عمدگی والی ہے۔
فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم اب یہاں سے نکالے نہ جاؤ گے بلکہ یہاں تمہارے لیے دوام ہے، اپنا یہ حال دیکھ کر خوش ہو کر جنتی اللہ کا شکر ادا کریں گی اور کہیں گے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» جو وعدہ ہم سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانی کیا تھا اسے پورا کیا۔ یہی دعا ان کی دنیا میں تھی «رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ» ۱؎ [3-آل عمران:194] یعنی ’ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کی زبانی ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تیری ذات وعدہ خلافی سے پاک ہے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اس موقعہ پر اہل جنت یہ بھی کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی اگر وہ ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے۔ یقیناً اللہ کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ اللہ ہی کیلئے سب تعریف ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا یقیناً ہمارا رب بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل و کرم سے یہ پاک جگہ ہمیں نصیب فرمائی جہاں ہمیں نہ کوئی دکھ درد ہے نہ رنج و تکلیف، یہاں ہے کہ یہ کہیں گے اس سے ہمیں جنت کی زمین کا وارث کیا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» ۱؎ [21-سورةالأنبياء:105]، ’ ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ‘۔ اسی طرح آج جنتی کہیں گے کہ اس جنت میں ہم جہاں جگہ بنا لیں کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ ہے بہترین بدلہ ہمارے اعمال کا۔
{ ابن صائد سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی مٹی کا سوال کیا تو اس نے کہا سفید میدے جیسی مشک خالص۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ سچا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2928]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ ”جنت کے دروازے پر پہنچ کر یہ ایک درخت کو دیکھیں گے جس کی جڑ میں سے دو نہریں نکلتی ہوں گی۔ ایک میں وہ غسل کریں گے جس سے اس قدر پاک صاف ہو جائیں گے کہ ان کے جسم اور چہرے چمکنے لگیں گے۔ ان کے بال کنگھی کئے ہوئے تیل والے ہو جائیں گے کہ پھر کبھی سلجھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے نہ چہرے اور جسم کا رنگ روپ ہلکا پڑے۔ پھر یہ دوسری نہر پر جائیں گے گویا کہ ان سے کہہ دیا گیا ہو اس میں سے پانی پئیں گے جن سے تمام گھن کی چیزوں سے پاک ہو جائیں گے جنت کے فرشتے انہیں سلام کریں گے مبارکباد پیش کریں گے اور انہیں جنت میں لے جانے کیلئے کہیں گے۔
ہر ایک کے پاس اس کے غلمان آئیں گے اور خوشی خوشی ان پر قربان ہوں گے اور کہیں گے آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے طرح طرح کی نعمتیں مہیا کر رکھی ہیں ان میں سے کچھ بھاگے دوڑے جائیں گے اور جو حوریں اس جنتی کیلئے مخصوص ہیں ان سے کہیں گے لو مبارک ہو فلاں صاحب آ گئے۔
نام سنتے ہی خوش ہو کر وہ پوچھیں گی کہ کیا تم نے خود انہیں دیکھا ہے؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہے ہیں۔ یہ مارے خوشی کے دروازے پر آکھڑی ہوں گی۔ جنتی جب اپنے محل میں آئے گا تو دیکھے گا کہ گدے برابر برابر لگے ہوئے ہیں۔ اور آب خورے رکھے ہوئے ہیں اور قالین بچھے ہوئے ہیں۔
اس فرش کو ملاحظہ فرما کر اب جو دیواروں کی طرف نظر کرے گا تو وہ سرخ و سبز اور زرد و سفید اور قسم قسم کے موتیوں کی بنی ہوئی ہوں گی۔ پھر چھت کی طرف نگاہ اٹھائے گا تو وہ اس قدر شفاف اور مصفا ہو گی کہ نور کی طرح چمک دمک رہی ہو گی۔ اگر اللہ اسے برقرار نہ رکھے تو اس کی روشنی آنکھوں کی روشنی کو بجھا دے۔ پھر اپنی بیویوں پر یعنی جنتی حوروں پر محبت بھری نگاہ ڈالے گا۔ پھر اپنے تختوں میں سے جس پر اس کا جی چاہے بیٹھے گا۔ اور کہے گا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی۔ اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا تو ہم تو ہرگز اسے تلاش نہیں کر سکتے تھے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال عن أهل الجنة: {وسيق الذين اتَّقَوا رَبَّهم}: بتوحيده والعمل بطاعتِهِ سَوْقَ إكرام وإعزازٍ يُحْشَرون وَفْداً على النجائب {إلى الجنَّةِ زُمَراً}: فرحين مستبشرينَ، كلُّ زمرةٍ مع الزمرةِ التي تناسِبُ عَمَلَها وتشاكِلُه، {حتى إذا جاؤوها}؛ أي: وصلوا لتلك الرحابِ الرحيبةِ والمنازل الأنيقةِ، وهبَّ عليهم ريحها ونسيمُها وآنَ خلودُها ونعيمُها، {وفُتِحَتْ} لهم {أبوابُها}: فَتْحَ إكرام لكرام الخَلْقِ لِيُكْرَموا فيها، {وقال لهم خَزَنَتُها}: تهنئةً لهم وترحيباً: {سلامٌ عليكم}؛ أي: سلامٌ من كلِّ آفةٍ وشرٍّ حالٌّ عليكم {طِبْتُمْ}؛ أي: طابت قلوبُكم بمعرفة الله ومحبَّتِهِ وخشيتِهِ، وألسنتُكم بذكرِهِ وجوارِحُكم بطاعتِهِ. {فـ} بسبب طِيبِكُم {ادْخُلوها خالدينَ}: لأنَّها الدارُ الطيِّبةُ، ولا يَليقُ بها إلا الطَّيِّبونَ. وقال في النار: {فُتِحَتْ أبوابُها}، وفي الجنة {وَفُتِحَتْ}: بالواو؛ إشارةً إلى أنَّ أهل النارِ بمجرَّدِ وصولهم إليها؛ فُتِحَتْ لهم أبوابُها من غير إنظارٍ ولا إمهال، وليكونَ فَتْحُها في وجوههم وعلى وصولِهِم أعظمَ لحرِّها وأشدَّ لعذابها، وأمَّا الجنةُ؛ فإنَّها الدارُ العاليةُ الغاليةُ، التي لا يوصَلُ إليها ولا ينالُها كلُّ أحدٍ إلاَّ مَنْ أتى بالوسائل الموصلةِ إليها، ومع ذلك؛ فيحتاجون لِدُخولها لشفاعةِ أكرم الشفعاءِ عليه، فلم تُفْتَحْ لهم بمجرَّد ما وصلوا إليها، بل يستشفعون إلى الله بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، حتى يشفعَ، فيشفِّعَه الله تعالى.
وفي الآيات دليلٌ على أنَّ النارَ والجنةَ لهما أبوابٌ تُفْتَحُ وتُغْلَقُ، وأنَّ لكلٍّ منهما خزنة، وهما الدارانِ الخالصتانِ اللتانِ لا يَدْخُلُ فيهما إلا مَنِ استَحَقَّهما؛ بخلاف سائر الأمكنةِ والدُّورِ.