تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰىقَدْجَآءَتْكَاٰیٰتِیْ ﴾”کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔“ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبْتَبِهَاوَاسْتَكْبَرْتَ ﴾”تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔“ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنْتَمِنَالْ٘كٰفِرِیْنَ ﴾”اور تو کافر بن گیا۔“ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوْرُدُّوْالَعَادُوْالِمَانُهُوْاعَنْهُوَاِنَّهُمْلَكٰذِبُوْنَ ﴾ (الانعام: 6؍28) ”اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى في أنَّ ذلك غير ممكنٍ ولا مفيدٍ، وأنَّ هذه أماني باطلةٌ لا حقيقةَ لها؛ إذ لا يتجدَّد للعبد لو رُدَّ بيانٌ بعد البيان الأول: {بلى قد جاءَتْك آياتي}: الدالةُ دلالةً لا يُمْتَرى فيها على الحقِّ، {فكذَّبْتَ بها واستكبرتَ}: عن اتِّباعِها، {وكنتَ من الكافرينَ}: فسؤالُ الردِّ إلى الدنيا نوعُ عبثٍ، فلو رُدُّوا؛ لعادوا لِما نُهوا عنه، وإنَّهم لَكاذِبونَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔