تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 58

اَوۡ تَقُوۡلَ حِیۡنَ تَرَی الۡعَذَابَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ کَرَّۃً فَاَکُوۡنَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾
یا کہے جب وہ عذاب دیکھے کاش! میرے لیے ایک بار لوٹنا ہو تو میں نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں۔ En
یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہو جاؤں
En
یا عذاب کو دیکھ کر کہے کاش! کہ کسی طرح میرا لوٹ جانا ہوجاتا تو میں بھی نیکو کاروں میں ہوجاتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أو تقولَ حين تَرى العذابَ}: وتجزِمَ بورودِهِ: {لو أنَّ لي كَرَّةً}؛ أي: رجعةً إلى الدنيا: لكنت {من المحسنينَ}.