(آیت 59) {بَلٰىقَدْجَآءَتْكَاٰيٰتِيْ …:} لفظ {”بَلٰى“ } (کیوں نہیں) اس شخص کی تردید کے لیے کہا جاتا ہے جو کسی ثابت شدہ چیز کی تردید کر رہا ہو۔ کفار کے قول {”لَوْاَنَّاللّٰهَهَدٰىنِيْلَكُنْتُمِنَالْمُتَّقِيْنَ“} (اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا) کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت نہیں دی اور {”لَوْاَنَّلِيْكَرَّةً“} کے ضمن میں یہ بات موجود ہے کہ اس نے انھیں وقت نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آئیں (یعنی میں نے اپنی آیات کے ذریعے سے تجھے ہدایت دی اور وقت بھی دیا) مگر تو نے انھیں جھٹلا دیا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں شامل رہا، جیسا کہ قوم ثمود کے متعلق فرمایا: «وَاَمَّاثَمُوْدُفَهَدَيْنٰهُمْفَاسْتَحَبُّواالْعَمٰىعَلَىالْهُدٰى»[حٰمٓ السجدۃ: ۱۷]”اور جو ثمود تھے ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا، مگر انھوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنے کو پسند کیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ ان کی خوا ہش کے جواب میں فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ (اللہ فرمائے گا) کیوں نہیں۔ تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انہیں جھٹلا دیا اور اکڑ بیٹھا اور تو تو تھا ہی کافروں میں [76] سے“
[76] یعنی تو جھوٹ بکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر مجھے ایک بار پھر موقعہ دیا جائے تو میں نیکوکار بن جاؤں گا۔ جب تو دنیا میں تھا تو اس وقت تجھے میری آیات پہنچی تھیں۔ لیکن تیری فطرت ہی ایسی ہے جس میں اکڑ اور تکبر ہے جس کی وجہ سے تو میری آیات کو جھٹلاتا رہا۔ اور اب بھی تیری طبیعت ویسی کی ویسی ہے۔ وہ دوبارہ دنیا میں جا کر بدل نہیں جائے گی۔ آج جو کچھ تو کہہ رہا ہے وہ صرف عذاب کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔ جب تو نے اس سے نجات پالی تو تیری اصل فطرت پھر عود کر آئے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰىقَدْجَآءَتْكَاٰیٰتِیْ ﴾”کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔“ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبْتَبِهَاوَاسْتَكْبَرْتَ ﴾”تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔“ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنْتَمِنَالْ٘كٰفِرِیْنَ ﴾”اور تو کافر بن گیا۔“ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوْرُدُّوْالَعَادُوْالِمَانُهُوْاعَنْهُوَاِنَّهُمْلَكٰذِبُوْنَ ﴾ (الانعام: 6؍28) ”اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى في أنَّ ذلك غير ممكنٍ ولا مفيدٍ، وأنَّ هذه أماني باطلةٌ لا حقيقةَ لها؛ إذ لا يتجدَّد للعبد لو رُدَّ بيانٌ بعد البيان الأول: {بلى قد جاءَتْك آياتي}: الدالةُ دلالةً لا يُمْتَرى فيها على الحقِّ، {فكذَّبْتَ بها واستكبرتَ}: عن اتِّباعِها، {وكنتَ من الكافرينَ}: فسؤالُ الردِّ إلى الدنيا نوعُ عبثٍ، فلو رُدُّوا؛ لعادوا لِما نُهوا عنه، وإنَّهم لَكاذِبونَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔