تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 60

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾
اور قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ وہ لوگ جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان کے چہرے سیاہ ہو ں گے، کیا جہنم میں ان متکبروں کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں؟ En
اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے۔ کیا غرور کرنے والوں کو ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے
En
اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کی مانند سیاہ ہوں گے، ان کے سیاہ چہروں کی وجہ سے اہل موقف انھیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہو گا۔ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کر دیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لیے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿اَلَ٘یْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے، ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں اللہ کی قسم! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بے انتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبرین کو پور ی طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بیوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا، اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن خِزْي {الذين كَذَبوا} عليه، وأنَّ وجوهَهم يوم القيامةِ {مسودَّةٌ}: كأنَّها الليلُ البهيمُ، يعرِفُهم بذلك أهلُ الموقف، فالحقُّ أبلجُ واضحٌ كأنه الصبح؛ فكما سوَّدوا وجهَ الحقِّ بالكذبِ؛ سَوَّدَ الله وجوهَهم جزاءً من جنس عملهم؛ فلهم سوادُ الوجوهِ ولهم العذابُ الشديدُ في جهنَّم، ولهذا قال: {أليس في جَهَنَّمَ مثوىً للمتكبِّرينَ}: عن الحقِّ، وعن عبادةِ ربِّهم، المفترين عليه، بلى والله؛ إنَّ فيها لعقوبةً وخزياً وسخطاً يبلُغُ من المتكبِّرين كلَّ مبلغ، ويؤخَذُ الحقُّ منهم بهما ، والكذِبُ على الله يَشْمَلُ الكذبَ عليه باتِّخاذِ الشريك والولدِ والصاحبةِ، والإخبار عنه بما لا يليقُ بجلالِهِ، أو ادِّعاء النبوَّة، أو القول في شرعِهِ بما لم يَقُلْهُ والإخبارِ بأنَّه قاله وشَرَعَه.