تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَوْتَقُوْلَلَوْاَنَّاللّٰهَهَدٰؔىنِیْلَكُنْتُمِنَالْمُتَّقِیْنَ﴾”یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔“ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أو تقولَ لو أنَّ الله هداني لكنتُ من المتَّقينَ}: و {لو} في هذا الموضع للتمنِّي؛ أي: ليت أنَّ الله هداني، فأكون متقياً له، فأسلم من العقاب، وأستحقُّ الثواب، وليست {لو} هنا شرطيَّةً؛ لأنَّها لو كانت شرطيَّة؛ لكانوا محتجِّين بالقضاء والقدر على ضلالهم، وهي حجةٌ باطلةٌ، ويوم القيامةِ تضمحلُّ كل حجةٍ باطلةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔