تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 56

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾
(ایسا نہ ہو)کہ کوئی شخص کہے ہائے میرا افسوس! اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ کی جناب میں کی اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔ En
کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا
En
(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس! اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں ہی رہا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنْ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوْلَ نَ٘فْ٘سٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔ ﴿وَاِنْ كُنْتُ بے شک میں تو تھا دنیا میں ﴿لَ٘مِنَ السّٰخِرِیْنَ مذاق اڑانے والوں میں سے یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم حذَّرهم {أن} لا يستمرُّوا على غفلتِهِم حتى يأتِيَهُمْ يومٌ يندمون فيه ولا تنفعُ الندامةُ، و {تقول نفسٌ يا حسرتى على ما فَرَّطْتُ في جَنبِ الله}؛ أي: في جانِبِ حقِّه. {وإن كُنتُ}: في الدُّنيا {لَمِنَ السَّاخِرينَ}: في إتيانِ الجزاء حتى رأيتُه عياناً.