تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنْ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوْلَنَ٘فْ٘سٌیّٰحَسْرَتٰىعَلٰىمَافَرَّطْتُّفِیْجَنْۢبِاللّٰهِ ﴾”کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔“﴿وَاِنْكُنْتُ ﴾”بے شک میں تو تھا“ دنیا میں ﴿لَ٘مِنَالسّٰخِرِیْنَ﴾”مذاق اڑانے والوں میں سے“ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم حذَّرهم {أن} لا يستمرُّوا على غفلتِهِم حتى يأتِيَهُمْ يومٌ يندمون فيه ولا تنفعُ الندامةُ، و {تقول نفسٌ يا حسرتى على ما فَرَّطْتُ في جَنبِ الله}؛ أي: في جانِبِ حقِّه. {وإن كُنتُ}: في الدُّنيا {لَمِنَ السَّاخِرينَ}: في إتيانِ الجزاء حتى رأيتُه عياناً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔