ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 57

اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰىنِیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾
یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔ En
یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا
En
یا کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت کرتا تو میں بھی پارسا لوگوں میں ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 57){ اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِيْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے: «لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۴۸] اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57۔ 1 یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا، (لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا) (6۔ الانعام:148) اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، ان کا قول کَلِمَۃُ حَقٍّ بِھَا الْبَاطِلُ کا مصداق ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ یا یوں کہے کہ: ”اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیزگاروں سے ہوتا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أو تقولَ لو أنَّ الله هداني لكنتُ من المتَّقينَ}: و {لو} في هذا الموضع للتمنِّي؛ أي: ليت أنَّ الله هداني، فأكون متقياً له، فأسلم من العقاب، وأستحقُّ الثواب، وليست {لو} هنا شرطيَّةً؛ لأنَّها لو كانت شرطيَّة؛ لكانوا محتجِّين بالقضاء والقدر على ضلالهم، وهي حجةٌ باطلةٌ، ويوم القيامةِ تضمحلُّ كل حجةٍ باطلةٍ.